ملک کے نامور مصور، خط کمال کے موجد،تخلیقی خطاط، سفر نامہ نگار اور کالم نگار اسلم کمال کے حوالے سے خصوصی تقریب




اسلام آباد(پ ر) ادبی و ثقافتی تنظیم ” زاویہ“ کے زیر اہتمام اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں ملک کے نامور مصور، خط کمال کے موجد،تخلیقی خطاط، سفر نامہ نگار اور کالم نگار اسلم کمال کے محصورین کشمیر پر دنیائے مصوری میں پہلے مزاحمتی و احتجاجی فن پارے ”India’s moodi“کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔صدارت افتخار عارف کی۔ پروفیسر ڈاکٹراحسان اکبر مہمانِ خصوصی تھے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفرنے کی۔ افتخار عارف نے کہا کہ اسلم کمال نے مصوری کے میدان میں بے مثال کام کیا ہے۔ انھوں نے فن مصوری کے مختلف جہتوں میں وقیع کام کیا ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری کے حوالے سے ان کی مصورانہ خطاطی ایک اہم کام ہے اسی طرح فیض کے کلام کو بھی انھوں نے مصوری کے فن سے روشناس کرایا۔ انھوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ہال میں تخلیقی کائنات کے تحت ساڑھے پانچ سو ادیبوں کے سکیچز تیار کر کے انھوں نے ادب کے حوالے سے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ یہ سارا کام انھوں نے بغیر معاوضے کے کیا۔ ساڑھے پانچ سو ادیبوں شاعروں کے سکیچز شاید ہی دنیا کی کسی بلڈنگ میں ہوں۔ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان میں ادیبوں کے سکیچز پر ایسی”تخلیقی کائنات“ کا خالق اسلم کمال ہے۔ اسلم کمال نہ صرف ایک با کمال مصور ہیں بلکہ وہ شاعر، ادیب اور دانش ور بھی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے ان کا یہ پوسٹر انتہائی اہمیت کا حامل اور اقوام عالم کی توجہ کا متقاضی ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاویدنے کہا کہ یہ ان کے لیے باعث فخر ہے کہ ان کی پہلی کتاب کا ٹائٹل بھی اسلم کمال نے بنایا تھا اور آج ان کی بطور چیئرمین تعیناتی کے بعد اکادمی ادبیات میں پہلی تقریب بھی اسلم کمال کے فن پارے حوالے سے منعقد کی جا رہی ہے۔ وہ اسلم کمال کے فن کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کے بھی معترف ہیں۔ ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ اسلم کمال نہ صرف ایک مصور ہیں بلکہ وہ ایک اچھے شاعر ، ادیب اور سفر نامہ نگار بھی ہیں۔ اسلم کمال نے کشمیر کے حوالے سے یہ جو پوسٹر تخلیق کیا ہے دراصل انھوں نے اس کے ذریعے مودی کے مکروہ چہرے کی عکاسی کی ہے۔اسلم کمال نے اپنی مصوری کے ذریعے ہمیشہ سچ کے حق اور ظلم کے خلاف اظہار کیا ہے۔اسلم کمال اوسلو میں ان کا اہم سفر نامہ ہے۔ اسلم کمال نے کہا کہ پوسٹر پر اس کا عنوانIndia’s moodi پینٹ کر دیاکہ یہ مودی ایسا سیڈسٹ اور فاشسٹ ہے جو ہر قاعدے کلیے ہر حفظ مراتب اور ہر اصول و قانون کوجھٹلا اور ٹھکرا دینے والا وہ شقی القلب ہے جو عالمی انسانی اخلاقیات کی صرف و نحو اور عدل و انصاف کی آفاقی گرامر سے بالکل نا بلد اور بے بہرہ ہے۔ اس پوسٹر کے عنوان میں جو اسمِ معرفہ مودی ہے اور اسم معرفہ کا پہلا حرف گرائمر کی رو سے بڑا(Capital) لکھا جاتا ہے مگر80 لاکھ کشمیریوں پر عرصہ ¿ حیات تنگ کر دینے والا مودی اتنا چھوٹا، اتنا چھوٹا انسان ہے کہ اس کے نام کو بھی میں نے چھوٹے”m” سے شروع کر کے قلبی تشفی محسوس کی ہے۔پےش نظر پوسٹر کے عنوانIndia’s moodi کے”m” کی پہلی ٹانگ نیچے کو پھانسی کے پھندے میں بدل گئی ہے اور پھانسی کا یہ پھندا ایک حسین و جمیل عورت کی گردن میں پڑ گیا ہے ۔ اس مجسمہ ¿ حسن و جمال کے ہاتھ اور پاﺅں بھی بندھے ہوئے ہیں اور پھانسی کے پھندے میں لٹکی یہ حسینہ اپنے ہی پیرہن کا شاید کوئی حصہ پھاڑ کر اس پر عموداً کشمیر لکھ کر اپنی شناخت اس حالت میں برقرار رکھنے کا اپنا عزم ظاہر کر رہی ہے۔ کشمیر کے نام سے اس حسین عورت کی آنکھ اہل دنیا سے بہت واضح سوال کر رہی ہے جب کہ اس خاتون کے ہونٹ ہیں ہی نہیں گویا اس کی قوتِ گویائی سلب کرلی گئی ہے اور ہاتھ پاﺅں باندھے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہکشمیر کی گردن میں جو پھانسی کا پھندا ہے اس کا نام کرفیو ہے اور دو ماہ سے زائد سے کرفیو کے نام سے پھانسی کے پھندے میں لٹکتی اس کشمیر جنت نظیر کے پاﺅں کے نیچے جو درمیان میں ایک فوٹو گراف ہے یہ دنیا میں اس ظلم کے خلاف میڈیا کے احتجاج کا منظر ہے۔میڈیا کے احتجاج والے فوٹو گراف میں وزیر اعظم پاکستان کا فوٹو گراف ہے جو کشمیر کاز کے سلسلے میں پاکستان کے بیانیے کا دو ٹوک اظہار ہے۔میڈیا کے احتجاج والے فوٹو گراف کے مشرق میں جو فوٹو گراف ہے یہ پاک فوج کے اُس ناقابلِ شکست عزم کا اظہار ہے جو پاک فوج کے کمانڈوز کا چاک و چوبند دستہ” اللہ ہو، اللہ ہو“ کا نعرہ بلند کر کے پاکستان دشمنوں پر لرزہ طاری کر دیتا ہے۔ پوسٹر میں کرفیو کے پھانسی کے پھندے میں لٹکے کشمیر کے وجود کے مشرق و مغرب میں اس امریکی ڈالر کے سیدے اور الٹے رخ کے عکس ہیں جس کی انسانیت کش اِستیلا کی پیدا کردہ پیلی پیلی دھند پوری دنیا پر ایک دائمی موسن بن کر چھا گئی ہے اور اس موسم میں مشرق و مغرب کی حریص نظریں سوا ارب لوگوں کی بھارتی مارکیٹ پر چپک کر رہ گئی ہیں۔

Comments are closed.