تقریب ِ اظہارِ یکجہتی روحِ آزادیِ کشمیر



وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے سفیر بن کر جارہے ہیں۔ غزالہ سیفی

عالمی سطح کے اہل قلم کشمیر میں انسانی حقو ق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کریں۔ افتخار عارف

اسلام آباد(پ۔ر)ہماری حکومت دنیا کے تمام فورمز پر کشمیریوں کی آواز پہنچارہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے سفیر بن کر جارہے ہیں اور وہاں اُن کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار غزالہ سیفی، سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور ممبرپارلیمانی کمیٹی برائے کشمیرنے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام تقریب اظہارِ یکجہتی”روحِ آزادیِ کشمیر“ میںکیا۔ صدارت افتخار عارف نے کی۔ تقریب میں غزالہ سیفی، سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور ممبرپارلیمانی کمیٹی برائے کشمیرنے خصوصی طورپر شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری مہمانِ خصوصی تھے۔ پاکستانی زبانوں کے نمائندہ شعرااور شاعرات نے منظوم خراج پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفرنے کی۔ افتخار عارف نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام اہل قلم چاہے وہ کسی بھی زبان کے ہوں کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کے بارے میں یکساں موقف رکھتے ہیں۔ ہم سب کشمیری عوام کی مسلسل جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ بھارتی حکو مت کی فرقہ وارانہ سیاست کے تحت کشمیرمیں کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اقوا م متحدہ اور انسانی حقوق کی دوسری بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیرکی آزادی کی جدوجہدمیں مظلوم عوام کا ساتھ دیںاور ان کے بنیادی حقوق کوبحال کرانے میں عالمی سطح پر احتجاج کریں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، پوری قوم اور عام لکھنے والے کشمیر کے عوام کی آزادی کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ قیام پاکستان کی تحریک اس وقت تک نامکمل سمجھتے ہیںجب تک کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔ہم لکھنے والوں سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ اور زیادہ توجہ اور لگن کے ساتھ کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت میںعالمی و قومی سطح پر آواز بلند کرے۔ عالمی سطح کے اہل قلم سے توقع رکھتے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی پامالی کے خلاف اور ان کے حق خودارادیت کے لےے آواز بلند کریں۔ غزالہ سیفی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان جس طرح نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑڈھا رہا ہے اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 45واں دن ہے ۔ خوراک اور ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کی حالت ناگفتہ یہ ہے لیکن تمام تر ظلم کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیںاور وہ آزادی کے لےے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کو جس طرح سے ہم نے پوری دنیا میں تمام تر سچائی کے ساتھ اُجاگر کیا ہے، پاکستان کی پوری تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔اب تو بھارتی سپریم کورٹ نے بھی حکم جاری کردیا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ختم کریں اور کشمیریوں کی معمول کی زندگی بحال کرے۔ یہ پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حوالے سے انتہائی حوصلہ افزاءبحث کی ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آج پوری دنیا میں مودی کا سفاک چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے ۔پروفیسر مقصود جعفری نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم اس دور کا ہٹلر ہے۔ وہ متعصب اور انتہاپسند ہندو ہے اس نے بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کی بنیاد رکھی ہے۔ مودی نے سکھو ں، مسلمانوں اوردوسرے مذاہب کے لوگوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اسی طرح کشمیر میں بھی ظلم و بربریت کا راج ہے۔ اس نے آئین سے 370اور 35اےکی شقیں ختم کر کے بھارتی آئین اور اقوام متحدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ مسئلہ کشمیر اب انسانی مسئلہ بھی بن چکا ہے۔ ادیبوں اور شاعروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ دیں اور بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالنے کے لےے پرزور احتجاج کریں ۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے کہا کہ پاکستانی اہل قلم کشمیریوں کی آواز بن کر بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے قلم کے ذریعہ کشمیری مظلوموں کی آواز بنیں گے۔ہم بھارتی جارحیت کے اور کشمیریوں سے انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی جارحیت کے خلاف مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اور اُن پر جو انسانیت سوز مظالم کےے جارہے ہیں ، عالمی ادارے اُن کا فوری طور پر نوٹس لے۔حکومت نے کشمیریوں کے لیے جو اقدام کیے ہیں قابل ستائش ہیں۔پاکستانی زبانوں کے مشاعرے میں افتخار عارف، ڈاکٹر مقصود جعفری، ڈاکٹر احسان اکبر، واحد بخش بزدار، ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، اصغر عابد، انجم خلیق، منظورویسریو، اقبال حسین افکار، جاوید احمد، نسیم سحر، علی روش، ڈاکٹر رفعت عباس، نصرت یار، منظرنقوی، سلمان سندھی، عمران عامی اور دیگر نے کلام سنایا۔

Press Release

Islamabad (PR) Pakistan Writers and scholars at special event organized by Pakistan Academy of Letters (PAL) on Thursday drew the attention of the international community, particularly scholars and writers towards the gross human rights violation and humanitarian crisis in Indian Occupied Kashmir.

PAL has organized special program titled “Izhar-e-Yakjehti Rooh-e-Azadi Kashmir”, aiming to express solidarity with Kashmiri brethren.

Ghazala Saifi, Parliamentary Secretary for National History and Literary Heritage Division and member the Parliamentary Committee on Kashmir was specially attended the ceremony.

Director General National Language Promotion Department (NLPD) Iftikhar Arif presided over the programe.

The event was graced by Prof. Dr. Maqsood Jaffery as the chief guest. Chairman PAL Syed Junaid Akhlaq and Director General PAL Dr. Rashid Hamid also attended the event.

Eminent poets and poetess will recite their poems in various Pakistani languages. The proceedings was conducted by Mehboob Zafar.

Iftikhar Arif said that all the scholars of Pakistan support right of self-determination of Kashmir. He strongly condemned India sectarian based atrocities in Indian Occupied Kashmir. He appealed United Nations and other human rights organizations to take notice and stop India from the human rights violation. He stressed on the world community to protest for restoration of fundamental rights of the people of Kashmir.

He said that Indian government announcement to revoke special state of Kashmir is serious violation of human rights as it granted a level of autonomy to the region.

Eminent poets and poetess also recited their poems in various Pakistani languages. Eminent scholars including Dr. Masood Jafri, Dr. Ihsan Akbar, Wahid Bakhsh Buzdar, Arshad Mahmood Nashad, Asghar Abid, Anjum Khaleeq, Manzoor Waisrio , Iqbal Hussain Afkar, Javed Ahmed, Naseem Sehar, Ali Ravish, Dr. Rifat Abbas, Nusrat Yar, Manzar Naqvi, Sarwan Sindhi, Wafa Chisti, Imran Aami and others also attended the event.

Addressing the participants, Ghazala Saifi our government would raise voice for people of Kashmir at all world forums. She said that Prime Minister Imran Khan will attended United Nations General Assembly as an Ambassador of people of Kashmir and raise voice for their rights. She said that today is 46th days people of Kashmir were facing curfew and complete communication blocked. She said that people are also facing shortage of food and medicines. She said that despite all these atrocities the spirit of Kashmiris are still high and will not avoid any sacrifice for their freedom. Ghazala Saifi said that Kashmir dispute was prominently highlighted.

She said that Indian Supreme Court has also recently issued directives to lift curfew and restore life in Indian Occupied Kashmir.

Parliamentary Secretary said that European Parliament has recently debated on Kashmir and expressed concerns over the human rights violations in the Occupied Kashmir. She said that Modi criminal face was exposed in all over the world.

Chief Guest Prof. Maqsood Jafri said that Indian Prime Minister is Hitler of present time, adding that he is racist and extremist Hindu mint set. He said Modi has laid the foundation of breaking India into pieces. He said that Modi at same time carried atrocities against Muslim and Sikh and other minorities within India. He said that Modi RSS terrorists also started genocide of people of Kashmir. He said that Modi has violated United Nations and India own constitution by revoking Article 370 and 35 A. He said that Kashmir dispute has now become humanitarian crisis.

Earlier, in his opening remarks, Director General PAL Dr. Rashid Hamid welcomed the participants and particularly scholars who travelled from across the country to attend the event. He said that more events and seminars would be organized by PAL in coming days on Kashmir.

Comments are closed.