اکادمی ادبیات پاکستان کا اظہارِیکجہتی کشمیر


اسلام آباد(پ۔ر)پاکستانی اہل قلم کشمیریوں کی آواز بن کر بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے قلم ذریعہ کشمیری مظلوموں کی آواز بنیں گے۔ یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتما م راولپنڈی اسلام آباد کے شاعروں ، ادیبوں ،دانشوروں ،اکادمی کے افسران اور عملے نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلان کے مطابق کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لےے اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کے سامنے جمع ہو کر بھارتی جارحیت کے اور کشمیریوں سے انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل ،ا کادمی ادبیات پاکستان، اختر رضا سلیمی، ملک مہر علی، طارق شاہد اور دیگر اہل قلم موجود تھے۔ اہل قلم نے بھارتی جارحیت کے خلاف مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے اور اُن پر جو انسانیت سوز مظالم کےے جارہے ہیں ، عالمی ادارے اُن کا فوری طور پر نوٹس لے۔حکومت نے کشمیریوں کے لیے جو اقدام کہیے ہیں قابل ستائش ہیں۔اکادمی کی طرف سے اظہار یک جہتی میں کشمیر میں شہید ہونے والوں کے لیے دعا بھی کی گئی۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کے دفاتر میں بھی کشمیریوں سے اظہار ِ یک جہتی کے لےے اہل قلم کا اجتماع ہوا ۔

PRESS RELEASE

Islamabad (P.R). The writers, poets and scholars through their writings will write against the brutalities and tyrannies being committed by Indian Army in Indian Occupied Kashmir. These views were expressed by the writers, poets, intellectuals & staff gathered in front of PAL’s office to observe “Kashmir hour” on Friday under the directives of honourable Prime Minister of Islamic Republic of Pakistan.

Eminent writers including Director General PAL Dr. Rashid Hamid, Akhtar Raza Saleemi, Malik Maher Ali, Tariq Shahid and other staff of Academy participated in the protest to express solidarity with occupied Kashmiri brothers/sisters as well as writers requested the international community to pay heed toward the tyranny of Indian army while chanting different slogans in favour of Kashmir freedom.

The crowds gathered at all regional offices of PAL to show solidarity with Kashmiris i.e. Lahore, Karachi, Peshawar, Quetta and Multan.

Comments are closed.