اکادمی سے اقبال ، غالب اور فیض کی تصاویر ہٹائے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں



اسلام آباد(پ ر)اکادمی ادبیات پاکستان نے بعض ٹی وی چینلز، اخبارات اورسوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے جن کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان سے مصور پاکستان علامہ اقبال اور اردو کے عظیم شعرا اسداللہ خاں غالب اور فیض احمد فیض کی تصاویر ہٹا دی گئی ہیں۔ اکادمی کی انتظامیہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبال ہی وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔وہ ایک شاعر ہی نہیں ایک مفکربھی تھے پاکستان انھی کے خواب کی تعبیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے بیشتر سرکاری دفاتر میں جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں ہوتی ہے وہاں حضرت اقبال کی تصویر بھی موجود ہوتی ہے،اکادمی ہی سے نہیں کسی بھی سرکاری دفتر سے ان کی تصویر ہٹائے جانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ غالب اور فیض اردو کے دوعظیم شعرا ہیں اور پاکستان کی قومی زبان اردو ان کی تخلیقات کے بغیر ادھوری ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان جو پاکستانی زبانوں کے لیے کام کرنے والاسب سے بڑا قومی ادارہ ہے وہاں سے ان کی تصاویر کیسے ہٹائی جاسکتی ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ان تینوں کی تصاویر پر گرد جمی ہوئی تھی اور ایک آدھ تصویر کا فریم بھی اکھڑا ہوا تھا۔انھیں صفائی اور مرمت کی غرض سے چند دنوں کے لیے اتارا گیا تھا جس سے بعض حلقوں میں یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی کہ شایدانھیں یہاں سے ہمیشہ کے لیے ہٹادیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایک تجویز یہ بھی آئی تھی کہ ان تصویروں کو سیڑھیوں سے ہٹا کر اکادمی کے کسی ہال میں نمایاں جگہ پر آویزاں کیا جائے ،جو ابھی زیر غور ہے ۔تاہم سرِ دست ان تصاویرکو صاف کرکے دوبارہ اسی جگہ آویزاں کردیا گیا ہے جہاں پہلے موجود تھیں اور کوئی بھی شخص موقع پر جاکر انھیں دیکھ سکتا ہے۔ترجمان نے ادبیوں،شاعروں، صحافیوں، دانشوروں اور ادب کے قارئین سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جھوٹی خبروں پر کان نہ دھریں۔

Comments are closed.