ادیبوں ، شاعروں اوردانشوروں کا اظہارِیکجہتی کشمیر

ادیبوں ، شاعروں اوردانشوروں کی شہید کی قبر پر فاتحہ
اسلام آباد(پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتما م راولپنڈی اسلام آباد کے شاعروں ، ادیبوں ،دانشوروں ،اکادمی کے افسران اور عملے نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلان کے مطابق کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کے دفتر کے سامنے جمع ہو کر بھارتی جارحیت کے اور کشمیریوں سے انسانیت سوز سلوک کے خلاف احتجاج کیا۔ اہل قلم میں لاہور سے آئے ہوئے امجد اسلا م امجد، ڈاکٹر احسان اکبر، محمد حمید شاہد، قیصر حمید، ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل ،ا کادمی ادبیات پاکستان اور دیگر اہل قلم نے خطاب کیا۔ اہل قلم نے بھارتی جارحیت کے خلاف پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی عوام کو ان کا حق دیا جائے اور اُن پر جو انسانیت سوز مظالم کیے جارہے ہیں ، عالمی ادارے اُن کا فوری طور پر نوٹس لے۔ اہل قلم نے کہا کہ ہم ہر طرح سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ ہمار ا قلم اُن کی حمایت کرتے کبھی نہیں تھکے گا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کے دفاتر میں بھی کشمیریوں سے اظہار ِ یک جہتی کے لیے اہل قلم کا اجتماع ہوا ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے اہل قلم نامور شاعر اور ادیب ڈاکٹر احسان اکبر کے فرزند کمانڈر احمد شہریار جو پسنی ، بلوچستان میں 29اکتوبر1999کو شہید ہوئے تھے ان کی قبر پر اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور فاتحہ خوانی کی گئی ۔ اس موقع پر لاہور سے آئے ہوئے امجد اسلام امجد کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد کے اہل قلم ، اکادمی ادبیات پاکستان کے افسران اور عملہ موجود تھے۔

Comments are closed.