اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام محفلِ مسالمہ

ڈاکٹرراشد حمید،جلیل عالی۔ڈاکٹر احسان اکبر،نصرت زیدی،محبوب ظفر

اختر شمار،جلیل عالی۔ڈاکٹر احسان اکبر،نصرت زیدی،محبوب ظفر

اسلام آباد (پ ر) واقعہ کربلا کے تناظر میں ہمیں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور نہتے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہے جو ہندوستان کے ظلم و بربریت کا شکا ر ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرراشد حمید نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام شہادتِ امامِ عالی مقامؓ کے سلسلے میں منعقدہ”محفل مسالمہ “ میں کیا۔ ڈاکٹر احسان اکبر نے صدارت کی۔ سید نصرت زیدی مہمان خصوصی تھے۔ڈاکٹراحسان اکبر، سید نصرت زیدی،پروفیسرجلیل عالی، لاہور سے آئے ہوئے اختر شمار، جاوید احمد، راحت سرحدی، خورشید ربانی، صفدر وامق، حسن عباس رضا، خرم خلیق، اختر رضا سلیمی، ڈاکٹر فرحت عباس، ضیاءالدین نعیم، رحمن حفیظ، نصرت یار ، تنویر حیدر سید،تبسم اخلاق، ڈاکٹر مظہر اقبال، عبدالقادر تاباں اور دیگر نے شہدائے کربلا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا۔نظامت محبوب ظفرنے کی۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ واقعہ کربلا ، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اس واقعہ نے بالخصوص عالم اسلام اور بالعموم عالم انسانی پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر مسلموں نے بھی حق و باطل کے اس معرکہ کو جس عقیدت اور سرشاری سے بیان کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے آج کے شعراءشہدائے عالی مقامؓ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی یہ روایت ہے کہ ہم ہر سال محرم الحرام کے اس بابرکت موقع پر اس طرح کی محفلِ مسالمہ کا انعقاد کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا نے ہمارے ذہنوں میں فکری انقلاب برپا کیا ہے۔ آج ہماری نئی نسل بھی بڑی کامیابی سے اس فکری انقلاب سے رہنمائی لے رہی ہے ۔ واقعہ کربلا سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق و باطل کی لڑائی میں حق کا ساتھ دیا جائے۔

Comments are closed.