میر تنہا یوسفی کے انتقال پر اکادمی ادبیات پاکستان کی تعزیت

اسلام آباد (پ ر)میر تنہا یوسفی اردوا ور پنجابی کے اہم لکھنے والوں میں سے تھے۔ ان کی پنجابی کہانیاں اور ناول پاکستانی ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے چےئرمین سید جنیدا خلاق نے پنجابی کے نامورادیب، شاعر اور ناول نگار میر تنہا یوسفی کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ میر تنہا یوسفی یکم جنوری 1955میں سیالکوٹ میں پیدا ہوائے۔ ان کی کتابیں ”سورج اگن تائیں“، ’لکنت“، ”تریہہ“، ”اک سمندر پار“، ”کھدو“، ”کالا چانن“،”تے فیر“ اور ”کیکر نوں پچھ“ پنجابی اور اردو ادب کاسرمایہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میر تنہا یوسفی کو2005میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے کتاب”کالا چانن“ پر ”سید وارث شاہ ایوارڈ“ سے نوازا گیا اس کے علاوہ ”مسعود کھدر پوش ایوارڈ “سے تین دفعہ نوازا گیا اور ”رائٹرز گلڈ ایوارڈ“ بھی دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میرتنہا یوسفی کی ادبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کے انتقال سے پاکستانی ادب ایک اہم لکھنے والے سے محروم ہوگیا ہے۔ چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان سید جنید اخلاق اور ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر راشد حمید نے مرحوم کے لیے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی د ±عا کی۔میر تنہا یوسفی کی نماز جنازہ میں اکادمی کے افسران اور اہل قلم نے شرکت کی۔

Comments are closed.