

پریس ریلیز (اسلام آباد۔پ۔ر) اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام چوتھا آن لائن توسیعی خطبہ بعنوان "پاکستانی زبانوں کی ترویج: صورتحال اور امکانات" بروز جمعہ، 19 جون 2026ء کو زوم اور فیس بک کے ذریعے آن لائن منعقد ہوا۔ تقریب کی صدارت ممتاز شاعر، ماہرِ لسانیات، مؤرخ اور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کی، جبکہ توسیعی خطبہ معروف ماہرِ لسانیات، محقق اور ماہرِ تعلیم جناب زبیر توروالی نے پیش کیا۔ نظامت کے فرائض شاعر اور محقق صفی ربانی نے انجام دیے۔ اپنے توسیعی خطبے میں زبیر توروالی نے کہا کہ جرمن ادارے Ethnologue کے 2026ء کے ایڈیشن کے مطابق پاکستان میں 76 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک معتبر ادارہ ہے اور اس کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بولی جانے والی زبانوں کو جدیدیت اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، براہوی، سرائیکی اور اردو جیسی بڑی زبانوں کو زوال پذیری کے تناظر میں زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے، تاہم انھیں معدوم ہونے والی زبانوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ وہ زبانیں زیادہ خطرات سے دوچار ہیں جن کا باقاعدہ رسم الخط موجود نہیں اور جنہیں اپنی تحریری ضروریات کے لیے اردو رسم الخط سے استفادہ کرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے اس امر پر زور دیا کہ زبانوں کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب انھیں معیشت، نظامِ تعلیم اور نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے زبانوں کی ترویج کے لیے قائم کئی ادارے بیرونی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے حکومت اور متعلقہ قومی اداروں کو اس میدان میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زبانوں کی درجہ بندی کی جانی چاہیے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کون سی زبان کس نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے اور اس کے مطابق عملی اقدامات کیے جا سکیں۔ نظامت کرتے ہوئے صفی ربانی نے کہا کہ ہر زبان سے وابستہ ادیبوں، شاعروں اور محققین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان کی بقا، ترویج اور ارتقا کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے زبیر توروالی کے خطبے کو نہایت جامع، مدلل اور فکر انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی دورِ حکومت میں تقریباً ڈیڑھ سو برس قبل لسانیات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ سروے کیا گیا تھا، جو اپنی نوعیت کی ایک اہم اور جامع تحقیق تھی۔ انھوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد ڈاکٹر طارق رحمان نے بھی اس میدان میں قابلِ قدر تحقیقی خدمات انجام دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2011ء میں ایک قرارداد منظور کی، جس کے نتیجے میں صوبے کی پانچ بڑی زبانوں کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق وہ زبانیں زیادہ خطرات سے دوچار ہوتی ہیں جن کے ساتھ آبادی، تعلیم اور میڈیا کی مضبوط پشت پناہی موجود نہ ہو۔ انھوں نے پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اختتامی کلمات میں تمام مہمانوں اور شرکاکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی زبانوں کا تنوع دراصل پاکستان کی ثقافتی اور فکری قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمگیریت اور مرکزیت کی اس دوڑ میں اداروں، ادیبوں، دانشوروں اور متعلقہ شخصیات کو مشترکہ جدوجہد کے ذریعے زبانوں کی بقا، سالمیت اور ترویج کے لیے کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سال اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کا ایک میوزیم قائم کیا ہے، جس میں مختلف زبانوں کے کلاسیکی مخطوطات اور اہم تحریری سرمایہ محفوظ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی لسانی وراثت سے آگاہ رہ سکیں۔ اس آن لائن نشست میں جناب فرحت اللہ بابر، محترمہ ثروت محی الدین، صاحب زادہ مسعود احمد، پروفیسر اکرم چودھری، ڈاکٹر ضیاءالرحمٰن بلوچ، جناب اقبال حسین افکار، جناب رحمان حفیظ، ڈاکٹر عزیز فیصل، ڈاکٹر امجد کلو، ڈاکٹر کامران کاظمی،محمد ساجد، جناب اظہر مجوکہ، محترمہ تہمینہ علی، ڈاکٹر سعدیہ کمال، جناب ریاض عادل، جناب عقیل بلوچ، جناب عرفان، محترمہ طیبہ تحسین،ڈاکٹر شیراز فضل داد، ڈاکٹر شاہدہ رسول، جناب سردار یوسف زئی،ڈاکٹر منظور علی ویسریو، جناب وسیم فقیر، محترمہ در شہوار، محترمہ کرن نورین، ڈاکٹر فاروق عادل، پروفیسر ڈاکٹر وسیمہ شہزاد،ڈاکٹر مہناز انجم، جناب یاسر کیانی، جناب تنویر عالم، جناب جاوید اقبال جاوید، جناب فرخ جمال و دیگر نے شرکت کی۔








