

پاکستان میں تعینات تاجکستان کے سفیر کی صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان سے ملاقات اسلام آباد، 22 جون 2026: جمہوریہ تاجکستان کے سفیر، عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے اکادمی ادبیات پاکستان میں صدر نشین اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر سفارت خانۂ تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ اوف مشن جناب معروف عبدالرحمان اور نائب ناظم اکادمی ڈاکٹر بی بی امینہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ادبی، تاریخی،ثقافتی اور علمی تعلقات کے فروغ، باہمی تعاون کے امکانات اور مشترکہ ادبی و تحقیقی منصوبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران میں تاجک سفیر عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے پاکستان اور تاجکستان کو ایک قوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک صدیوں پر محیط مشترکہ تہذیبی، ثقافتی اور فکری رشتوں سے منسلک ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں موجود تہذیبی و ثقافتی سرمایہ دراصل دونوں ممالک کا مشترکہ ورثہ اور اثاثہ ہے، جس کے تحفظ، فروغ اور نئی نسلوں تک منتقلی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ سفیر ِ تاجکستان نے شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال کے لیے گہرے عقیدت و احترام کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجکستان میں سیکڑوں افراد کلیاتِ اقبال کے حافظ ہیں اور وہاں اقبال کو ایک بلند روحانی اور فکری مقام حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کی فکر آج بھی تاجک عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کا پیغام دونوں ممالک کے درمیان فکری اور تہذیبی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کو اکتوبر ۲۰۲۶ء میں دوشنبہ، تاجکستان میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی۔ انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نہ صرف کانفرنس میں شرکت کریں بلکہ اس موقعےپر اپنا تحقیقی مقالہ بھی پیش کریں۔ صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان،پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس موقعے پر کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور ادبی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے دونوں ممالک کو ادبی اور ثقافتی سطح پر مل کر کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ بہتر مستقبل کی تعمیر اور خطے میں فکری و ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ ادبی منصوبوں، تراجم، علمی تبادلوں اور ادبی وفود کے تبادلے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے ادبی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے، تراجم کے فروغ، مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں اور ادبی و ثقافتی تعاون کے نئے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ ادب اور ثقافت عوامی روابط کو مستحکم بنانے اور باہمی تفہیم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ملاقات خوشگوار اور نہایت دوستانہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقعے پر عزت مآب جناب یوسف شریف زادہ نے صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کو تاجکستان کی یادگاری سوغات پیش کی، جبکہ صدر نشین اکادمی نے انھیں اپنی تصانیف اور اکادمی کی منتخب مطبوعات پیش کیں۔






