قومی تقریب اظہار یکجہتی روحِ آزادی کشمیر اور اہل قلم

پریس ریلیز
اسلام آباد (پ۔ر)َہم مظلوم کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور ہر سطح پر حمایت کرتے ہیں اور دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کی روح کو اجاگر کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے کانفرنس روم میں منعقدہ قومی تقریب اظہار یکجہتی” روحِ آزادی ِ کشمیر اور اہل قلم“ میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک ، وفاقی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن، مہمان خصوصی تھے۔ افتخار عارف اور ڈاکٹر انعام الحق جاوید مہمانان اعزاز تھے۔ تقریب سے پاکستانی زبانوں کے نمائندہ اہل قلم ڈاکٹر احسا ن اکبر، پروفیسر جلیل عالی، محمد حمید شاہد، میر تنہا یوسفی(پنجابی)، ڈاکٹر منظور ویسریو(سندھی)، م۔ر شفق(پشتو)، ڈاکٹر واحد بخش بزدار(بلوچی) اور وفا چشتی(سرائیکی)نے اظہار خیال کیا۔سید جنید اخلاق چیئرمین اکادمی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے تمام اہل قلم کی طرف سے ہندوستان کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم کرنے اور کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے رد عمل میں مذمتی قرار داد پےش کی۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی ادبیات پاکستان نے نظامت کی۔شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے تعلیم ، پیشہ ورانہ تربیت، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے کہا کہ ادیبوں کے خیالات سن کر مجھے دلی اطمینان ہوا ہے کہ ہماری ادیب برادری مسئلہ کشمیر کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔ بلا شبہ مسئلہ کشمیر ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے ہم سب کو سیاست سے بالا تر ہو کر کشمیر کی آزادی کے لےے کام کرنا ہے۔ کشمیر میں جو ظلم ہورہا ہے اس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ہندوستان نے معصوم کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کے لےے 9لاکھ فوجی تعنیات کےے ہیں جو مسلسل کشمیریوں پر ظلم ڈھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہر قیمت پر کشمیر پر اپنا غاضبانہ تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ وہ برتری کے احساس میں اندھا ہو چکا ہے یہ ایک احساس کمتری کی سوچ ہے۔ جو نازی اور ہٹلر کی سوچ ہے وہ کسی بھی صورت دوسری طاقت برداشت نہیں کر سکتے۔ عالمی برادری کو اس منفی سوچ کا ادراک کرنا چاہےے۔ ہم سب نے مل کر ہندوستا ن کی اس سوچ کا مقابلہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اقوام متحدہ کے قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اس لےے ہندوستان کا سفاک چہرہ دنیا کے سامنے چاک ہوگیا ہے۔ عالمی برادری خاص کر مسلم امہ کو چاہےے کہ وہ ہندوستان کے اس بہیمانہ اقدام کی بھر پور طریقے سے مذمت کرے تاکہ ہندوستان کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے۔ وہ خود سفیر بن کر دنیا کے کونے کونے تک ہندوستان کا کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے لےے آوازاٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہندوستان نے کسی قسم کی جارحیت کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔وزیر اعظم کشمیر کے حوالے سے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ بڑی کامیابی ہے کہ 1965کے بعد دوبارہ سے مسئلہ کشمیرپر سلامتی کونسل میں خصوصی میٹنگ ہوئی اور ہندوستان کی غاضبانہ تسلط اور کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انشاءاللہ ہم سب مل کر کشمیر کاذ پر کامیابی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں۔ انشاءاللہ جلد یا بدیر کشمیر بنے کا پاکستان۔ افتخار عارف نے کہا کہ اہل قلم نے کبھی بھی کشمیر کے مسئلے سے روگردانی نہیں کی اور ہمیشہ کشمیر کی جدوجہد میں شریک رہے۔ انھوں نے کہا کہ میر علی ہمدانی، احمد شمیم، سید عارف، احمد جاوید، اور طاﺅس بانہالی نے کشمیر کے حوالے سے بہت کچھ لکھا۔انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اہل قلم جن کی وابستگی کسی بھی سےاسی جماعت سے ہے وہ کھل کر کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کریں۔ یقینا اہل قلم کی اپنی ایک قوت اور آواز ہوتی ہے۔ ہم سب مل کر کشمیر کی جدوجہد کو مضبوط کریں گے۔ اس مسئلہ کو عالمی سطح پر بھر پور انداز میں اٹھایا جائے۔ تمام آزاد قومیں اور آزادی پر یقین رکھنے والے ممالک مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ اب تو ہر صورت میں اہل قلم نے کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرنا ہے۔ مودی سرکار نے سیاست کو نفرت کی عینک سے دیکھا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ہندوستان نے شملہ معاہدہ کو توڑ دیا ہے۔ مسلم امہ اور عالمی برادری کو کشمیر میں ہندوستان کے غاصبانہ قبضہ کا نوٹس لینا چاہیے۔پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ1965 کے بعد مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لانا خوش آئند بات ہے جہاں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشوےش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تمام اہل قلم کشمیر کے ساتھ جدوجہد میں شریک رہیں گے۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ آرٹیکل370 اور35-A کو ختم کر کے ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی ہے۔ یہ ایک انتہائی ظالمانہ اور غاصبانہ اقدام ہے۔ کشمیر میں ہندوستانی افواج نے جو ظلم اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے یہ ناقابل برداشت ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں اور دنیا کو کشمیر میں ہندوستان کا ظالمانہ اور سفاک چہرہ دکھائیں، اس کے لیے ہمیں پہلے سے زیادہ جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام اہل قلم نے ہمیشہ کشمیر کاز کے لیے کام کیا ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔ میر تنہا یوسفی نے کہا کہ جب تک کشمیر ہندوستان کے تسلط سے آزاد نہیں ہوتا ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے،بطور پنجابی لکھاری ہم تمام اہل قلم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔م ر شفق نے کہا کہ بحیثیت پشتو ادیب میں اپنے تمام پشتو اہل قلم کی طرف سے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی جدوجہد میں شریک ہیں۔ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے تو کشمیر کی جنگ لڑی ہے۔ کشمیرکی آزادی ہمارا نصب العین ہے۔ وفا چشتی نے کہا کہ سرائیکی ادبیوں کی طرف سے میں کشمیر میں ہندوستان کی ظلم و بربریت کی سخت مذمت کرتا ہوں اور ان کے ساتھ یکجہتی کرتا ہوں اور اللہ سے دعا گو ہوں کہ کشمیر کو آزادی کی نعمت دے۔ واحد بخش بزدار نے کہا کہ میں بلوچی ادبیوںاور شاعروں کی طرف سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں، ہمیں کشمیر کاز کو آگے بڑھانا ہے۔منظور ویسریو نے کہا کہ میں تمام سندھی اہل قلم کی طرف سے کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہوں۔ انشاءاللہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ روح کشمیر کے حوالے سے اکادمی ادبیات پاکستان کے تمام دفاتر تقریبات کا انعقاد کر رہے ہیں، ہم سب مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی جدوجہد میں برابر کے شریک ہیں۔

قرار داد

قرار دادِ مذمت پاکستانی زبانوں کے نمائندہ اہل قلم کا یہ اجتماع مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر بھارت کی طرف سے ڈھائے جانےوالے مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر شدید مذمت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے :
۰ بھارت مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم فوری طور پر بند کرےاور وہاں تعینات اپنی فوجیں فوری طور پر واپس بلائے۔
۰ کشمیر ی ادبیوں ، دانشوروں اورصحافیوں کے قلم پر لگائی جانے والی قدغنوں کو فوری طور پر ختم کرے۔
۰ کشمیریوں کے وہ بنیادی انسانی حقوق ،جن کی ضمانت اقوام متحدہ کے منشور میں دی گئی ہے ، فوری طور پر بحال کرے۔
۰ اہل قلم کایہ اجتماع سمجھتا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جب کہ بھارت کی جانب سے اٹھایا جانے والاحالیہ قدم ایک متنازع علاقے پر غاصبانہ قبضہ ہے جو کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔
۰ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا فوری نوٹس لے اورمسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق حل کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

Comments are closed.