تقریب’’اہل قلم سے ملیے‘‘کے تحت وقار بن الٰہی کے ساتھ ملاقات

اسلام آباد (پ ر) لکھاری اپنی ذات کواپنی تحریروں سے جُدا نہیں کرسکتا ۔لکھاری کی ذات کاہر گوشہ اُس کی تحریر میں نمایاں نہیں ہوتا ۔ ایک لکھنے والے کے بے شمار ایسے گوشے ہیں جو پڑھنے والوں کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف افسانہ نگار و دانشور وقار بن الٰہی نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ میں کیا۔ وقار بن الٰہی سے قریبی عزیز و اقارب اورپروفیسر فتح محمد ملک ،افتخار عارف، فریدہ حفیظ، میر تنہا یوسفی، نیلو فر اقبال ،خلیق الرحمن اور دیگراہل قلم نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو کی اور سوالات کیے۔ وقار بن الہٰی نے کہا کہ میرے آبا و اجداد کشمیری تھے ۔ والد فوج میں تھے۔میں23 ستمبر 1936 ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوا وہی سے پرائمری سکول میں داخل ہوا۔ بعد ازاں والد صاحب اٹک تبادلہ ہوا۔ دوسال وہاں پڑھا اور کوہاٹ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اٹک سے بی اے کیا وہاں پر پروفیسر فتح محمد ملک اور خاور رضوی جیسے سے لوگوں سے ملاقاتیں رہیں ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ بی اے کے بعد لاہورسے ایم اے کیا۔انہوں نے کہا کہ کالج کے دور میں مجھے فلمیں دیکھنے کا بھی شوق تھا ۔ خود اداکاری اور موسیقی سے بھی شغف تھا اور کھیل میں کرکٹ سے دلچسپی تھی ۔ میں نے وہ سارے کام کیے جو نوجوانوں کو اچھے لگتے ہیں۔ 1957ء میں میرا پہلا افسانہ ’’چور‘‘ شائع ہوا۔مجھے لکھتے ہوئے پچاس برس سے زیادہ ہوچلے ہیں۔ ایک طویل فاصلہ ہے،جو میںنے طے کیا ہے۔یار لوگ ملازمت سے سکبدوشی کے وقت پوچھتے تھے، ریٹائرمنٹ کے بعدکیا کرو گے؟تو میرا جواب بہت مختصر ہوتا تھا۔کیاکرنا ہے ، لکھنے پڑھنے میں مصروف رہوں گا۔ واقعی مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا کہ نئے سرے سے یہ کام مجھے اس طرح دبوچ لے گا کہ میں اگر کچھ کرنا چاہوں گا تو وہ لکھنے اور پڑھنے کے سوا کچھ بھی نہ ہو گا۔البتہ دو سو قریب افسانے لکھنے کے باوجود مجھے کبھی اس کا غم نہیں ہوا کہ لوگ مجھے کس قدر جانتے ہیں اور اگر نہیں جانتے تو کیوں نہیں جانتے ؟ میرا کام لکھنا ہے اور بس۔افتخار عارف نے کہا کہ وقار بن الہٰی آخری وقت تک افسانے کی کلاسیکی روایت سے جڑے رہے۔پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ کالج کے دور سے جو دوستی وقار بن الہٰی کے ساتھ رہی وہ آج تک قائم ہے۔ بلاشبہ وہ منفرد انداز کے اچھے افسانہ نگار ہیں۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وقار بن الٰہی کا شمار اہم افسانہ نگاروں میں ہو تا جو اسلام آباد کی پہچان بنے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے پروگرام ’’میٹ اے رائٹر ‘‘کے تحت آئندہ بھی ادبیوں اور دانشوروں کے ساتھ اس طر ح کی ملاقات کا اہتمام کرتی رہے گی۔

Comments are closed.