چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان کا دورہ سوات


اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے سوات کا تین روزہ دورہ کیاجہاں سوات اور مضافات کے تمام زبانوں کے نمائندہ لکھاریوں اور ادیبوں سے ملاقات کی۔فضل محمود روحان نے سوات ادبی مانگہ کے تحت چیئر مین اکادمی سے سوات کے اہل قلم ملاقات اہتمام کیا۔سید جنید اخلاق نے اہل قلم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان سب کا ادارہ ہے۔ پورے ملک کے ادیبوں اور لکھاریوں کو ہم یکساں عزت و تکریم کے قابل سمجھتے ہیں۔قومی تاریخ اور ادبی ورثہ ڈویژن،سیکرٹری انجنیئر عامر حسن کی سربراہی میں علم و ادب، تہذیب و تمدن اور فن و ثقافت کے حوالے سے بہت کام کر رہا ہے۔اکادمی ادبیات پاکستان کے مختلف منصوبوں اور پاکستانی ادب کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کو سوات کے اہلِ دانش نے سراہا۔ فضل محمود روخان نے کہا کہ سوات میں اکادمی ادبیات پاکستان کا ایک علاقائی دفتر قائم کرنے کامطالبہ کیا۔ سوات کےادیبوں کو اکادمی کی مختلف کمیٹیوں میں نمائندگی دی جائے اور وظائف کی شرح میں بھی اضافہ کیا جائے۔ سوات کے ادیبوں کو گروپ انشورنس کی سہولت میں شامل کیا جائے اور ان کی کتابوں کی اشاعت میں معاونت کی جائے۔ تقریب اور ملاقاتوں سوات ڈویژن کے مختلف اضلاع کے اہل قلم فضل محمود روحان، عبدالرحیم روحان، حیدر علی شاہ، سکندر حیات، فراموز شہاب، واجد علی خان، حمزہ علی شاہ، کامران خان، اعزاز امن اللہ روحان، زاہد خان، ارشاد علی، فضل خالق، ہمایوں مسعود، جواں بخت اسیر، جان بخت علی، ظفر علی ناز، حنیف پشین، شمس اقبال شمس، ظفرعلی ناز، حنیف قیس، شوکت شرار اور دیگر شامل تھے۔

Comments are closed.