اکادمی ادبیات پاکستان کی کتاب کشور ناہید:شخصیت اورفن شائع ہو گئی

کشور ناہید عہدِ حاضر کی ممتاز شاعرہ، سوانح نگار، مترجم، کالم نگار اور دانش ور ہیں۔سید جنید اخلاق
اسلام آباد (پ۔ر) کشور ناہید عہدِ حاضر کی ممتاز شاعرہ، سوانح نگار، مترجم، کالم نگار اور دانش ور ہیں۔ پاکستان میں بیداریٔ خواتین کی تحریک کے حوالے سے عالمی سطح پر متعارف تخلیق کار کے طور پر انھیں بہت عزت و احترام حاصل ہے۔یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلے کی نئی کتاب’’کشور ناہید :شخصیت اورفن‘‘ کی اشاعت کے موقع پر کہی۔انہوں نے کہا کہکشور ناہید کو پاکستانی عہد کی اسلوب ساز لکھاری کی حیثیت سے دنیا بھر میں بہت تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ انھیںاکادمی ادبیات کی طرف سے ملک کا سب سے بڑا قومی ادبی انعام ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ بھی دیا جاچکا ہے جو ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ادب کے معمار، اکادمی ادبیات پاکستان کا اہم اشاعتی سلسلہ ہے۔ پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلے کی کتابوں کا بنیادی مقصد ،جہاں ایک طرف پاکستانی زبانوں کے اہم لکھنے والوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور انھیں عام قارئین تک پہنچاناہے ، وہیں ادب کے محققین،ناقدین ، اورطالب علموں کوان کے متعلق بنیادی نوعیت کا تحقیقی و تنقیدی مواد فراہم کرنا بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کی تمام کتابوں کی نوعیت تعارفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حد تک تحقیقی و تنقیدی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی مصنفہ شاعرہ، محقق، اور نقاد ڈاکٹر شاہین مفتی نے اکادمی ادبیات پاکستان کی درخواست پر ’’کشور ناہید: شخصیت اور فن‘‘ لکھی تھی جسے اکادمی نے 2010ء میں شائع کیا تھا۔ یہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے جس میں ترامیم و اضافہ جات کے ساتھ ساتھ کشور ناہید کی چند یادگار تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر شاہین مفتی نے ایک بار پھر نہایت محنت اور لگن سے اس کتاب میں ترامیم و اضافہ جات کیے ۔ محقق، استاد اور نقاد ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اس دوسرے ایڈیشن کی نظر ثانی کی ہے ۔ یہ کتاب 144صفحات پر مشتمل ہے، اس کی قیمت 200روپے ہے۔ کشور ناہید کی شخصیت اور فن کے حوالے سے یہ کتاب اہم حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ کتاب مارکیٹ ، اکادمی کی بُک شاپ اور اکادمی کے ریجنل دفاتر میںدستیاب ہے۔

Comments are closed.