ڈاکٹر شاہد مسعود، ڈاکٹر ایوب صابر ، ڈاکٹر راشد حمید ، اکادمی ادبیات پاکستا ن کے پروگرامـ’’ اہل قلم سے ملیے‘‘

اسلام آباد (پ ر)علامہ اقبال نے اعلیٰ فکری اور علمی سطح پر اسلام کی تفہیم پیش کی ہے۔ ان خیالات کا اظہارممتاز دانشور ، محقق اور اقبال شنا س پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ میں کیا۔صدارت ڈاکٹر شاہد مسعود نے کی۔پروفیسر ڈاکٹرایوب صابر کے صاحبزادوں اوراہل قلم نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو اور سوالات کیے۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر نے کہا کہ علامہ اقبال بڑے مفکر اور بڑے شاعر تھے۔ نسل انسانی میں ایسی ہستیاں بہت کم پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان اقبال کے ہی نظریہ قومیت کا ثمر ہے۔ اسلام اور پاکستان کے دشمن اقبال کے بھی دشمن ہیں۔ وہ اقبال کو منہدم کر کے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ اہل قلم گروہ بندی ، تعصب یا مفاد کی بنیاد پر اقبال دشمنی کے درپے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ڈ اکٹر ایوب صابرنے انتہائی سادہ اور موثر انداز سے اقبال کے معترضین کے جواب دیے ہیں۔ اقبال پر ان کی کتابیں حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں وہ سچے اور کھرے پاکستانی ہیں ۔جلیل عالی نے کہا کہ ڈ اکٹر ایوب صابر معصوم اور پر خلوص انسان ہیں اور ایسے ہی لوگ اقبال سے محبت کی پاسداری کر سکتے ہیں۔اس دورمیں ایسے دردمند اور محبت کرنے والے لوگ نایاب ہیں۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر نے تحقیق میں جواب کی بجائے تجربہ اور تحلیل سے کام لیا اور اس میدان میں کامیاب رہے۔ ڈاکٹر ایوب صابر اقبال کے دفاع میں شمشیر برہنہ ہیں لیکن جوش عقیدت میں دانائی اور بینائی کے ساتھ اقبال دشمنوں کو دلیل کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔ ڈاکٹر ایوب صابر نے کہا کہ اقبال دشمنی کا موضوع اسی زمانے سے پروان چڑھنے لگا جب علامہ اقبال نے بحیثیت شاعر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ میرے ایم فل کے مقالے کا موضوع’’ اقبال پر معاندانہ کتب کا جائزہ‘‘ تھا۔ اس پر نظر ثانی کے بعد ’’اقبال سے دشمنی ایک مطالعہ‘‘ اس صورت سامنے لایا ۔ فکر ِ اقبال کی درست تفہیم کے لیے اقبال دشمن خیالات کا تدارک کرنا اور جواب دینا بہت ضرور ی ہے۔کوشش کی ہے کہ معترضین اقبال کی تمام باتوں کا تحقیقی حوالے سے جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جنوری 1940میں ایبٹ آباد میں آنکھ کھولی، ہری پور کے قریبی گائوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، سرائے صالح سے میٹرک کیا۔ گورنمنٹ کالج ایبٹ آباد سے بی اے کیاجہاں پروفیسر صغیر احمد جان دہلوی نے میری ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ بعدمیں جامعہ پشاور سے ایم اے اردو کیا جہاں پروفیسر صغیر احمد جان دہلوی نے صلاحیتوں کو جلا بخشی، یہیں سے اقبال سے دلی عقیدت کا سفر شروع ہوا اور علامہ اقبال پر مضمون نگار ی کا سلسلہ شروع کیا۔ شاعری بھی کی لیکن بہت کم کی۔

Comments are closed.