قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے زیر اہتمام نیشنل بُک فائونڈیشن کا سہ روزہ دسواں قومی کتاب میلہ

پاک چائنا سنٹر میں کتاب میلے کا دوسرا روز۔ کتابیں علم کا ذخیرہ ہوتی ہیں: صدر عارف علوی
کتاب خوانی، کتابوں کی تقاریبِ رونمائی، مذاکرے، کشمیر پر سیمینار، سی پیک پروگرام، بچوں کے پروگرام
سہ روزہ قومی کتاب میلہ 21اپریل کو اختتام پذیر ہو گا۔ شائقینِ کتب نے اسٹالوں سے لاکھوں روپے کی کتب خریدیں
اسلام آباد (20 اپریل 2019ء) قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے زیر اہتمام نیشنل بُک فائونڈیشن کے سہ روزہ دسویں قومی کتاب میلے کے علمی وادبی اور ثقافتی پروگراموں پر مبنی رونقیں دوسرے روز بھی بھر پور انداز میں جاری ہیں۔ مختلف اہم نوعیت کے پروگراموں سی پیک اور مسئلہ کشمیر پرمذاکرہ، نوائے رومی، دنیائے تبسم، بین الاقوامی مشاعرہ ، نوجوان خواتین کا پروگرام ، گوگی شو، آفاق کوئز، مختلف کتابوں اور ناولوں کی تقاریبِ رونمائی سمیت بچوں کے دلچسپ اور رنگا رنگ معلوماتی پروگرموں میں اہلِ علم وادب، نامور مصنفین اور نوجوان لکھاریوں نے بھرپور شرکت کی۔گزشتہ روز اس کتاب میلے کا افتتاح ڈاکٹر عارف علوی صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے فیتہ کاٹ کر کیاتھا۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ کتابیں علم کا ذخیرہ ہوتی ہیں جن سے ہر پڑھے لکھے شخص کو استفادہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے بچپن سے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے اور یہ شوق اب تک برقرار ہے۔ میں اب بھی اچھی کتابیں پڑھتا ہوں۔ صدرِ مملکت نے کتاب میلے کے انعقاد پر وفاقی وزیر فیڈرل ایجوکیشن و فنی تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن شفقت محمود کو مبارک باد دی اور کتاب میلے کو کامیاب بنانے میں قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور نیشنل بک فائونڈیشن کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ مطالعہ ترقی یافتہ معاشروں کا ہمیشہ شعار رہا ہے۔ آج کے جدید دَور میں کتب بینی کا رجحان بتدریج متاثر ہو رہا ہے مگر قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور این بی ایف کتاب کلچر کو فروغ دینے میں قابلِ ستائش کار کردگی دکھا رہے ہیں۔ صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں میں کتابوں کے مطالعے کی عادت ڈالنا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کتابوں سے علم عام ہو گا اور کتابوں کے دروازے کُھلنے سے نیا پاکستان جنم لے گا۔افتتاحی تقریب سے وفاقی وزیر تعلیم فیڈرل ایجوکیشن و فنی تربیت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن شفقت محمود نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ لکھنے کے عمل سے انقلاب آیا اور پھر پرنٹنگ کے دَور میں یہ انقلاب آگے بڑھا اور اس سے تعلیم عام ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب کتابیں شوق سے پڑھی جاتی تھیں اور لائبریریاں موجود تھیں مگر اب نیا دور ہے اور نیا زمانہ ہے ۔ این بی ایف کتاب دوستی کو فروغ دے رہا ہے۔ وفاقی سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن انجینئر عامر حسن نے اس موقع پر اپنے خطاب میں قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے قیام سے اب تک تین برسوں میں ڈویژن کے ذمے قومی تاریخ اور ادبی ورثے کی حفاظت و ترویج اور کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایم ڈی این بی ایف ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ابتدائی کلمات میں نیشنل بُک فائونڈیشن کی کارکردگی اور دسویں کتاب میلے کے پروگرام پیش کیے اور تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔ بُک ایمبیسیڈرز کی نمائندگی نامور افسانہ نگار، مصنف مسعود مفتی نے کی۔صدر مملکت نے پاک چائنا سنٹر میں لگائے گئے بک اسٹالوں کا دورہ کیا اور کتابیں پسند کیں۔ صدرِ مملکت کی آمد پر قومی ترانہ پیش کیا گیا جب کہ صدرنے کتاب کے پرچم کی پرچم کشائی کی۔بعد ازاں کتاب کا ترانہ اسکولوں کے بچوں نے پیش کیا اور وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے صدرِ مملکت کو کتابوں کا تحفہ پیش کیا۔نظامت کے فرائض محبوب ظفر اور قراۃ العین رضوی نے انجام دیئے۔قومی کتاب میلے کے دوسرے روز طلبہ و طالبات، فیمیلیز، نوجوانوں اور شائقینِ کتب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مختلف علمی و ادبی اور ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیا۔ این بی ایف کتاب میلے میں ملک بھر سے نامور پبلشرز اور بک سیلرز نے 185کی تعداد میں بک اسٹال لگائے جہاں کتاب دوستوں کے لیے ہر موضوع کی کتب 40فیصد ڈسکائونٹ پر دستیاب تھیں۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتب خریدیں۔ کتاب میلہ 21اپریل اتوار کو اختتام پذیر ہوگا۔

Comments are closed.