ڈاکٹر جمیل جالبی کے انتقال پر اکادمی ادبیات پاکستان کی تعزیت

اسلام آباد (پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے معروف ادیب، محقق، نقاد اور دانشور ڈاکٹر جمیل جالبی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے انتقال سے ادبی دنیا میںجوخلاء پیدا ہوا ہے وہ مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا۔ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی وفات لمحہ موجودمیں اردو کے سب سے بڑے لکھاری کی رحلت ہے۔ چیئرمین اکادمی ،سید جنید اخلاق نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی 4جلدوں پر مشتمل کتاب ’’تاریخِ ادبِ اردو‘‘ اور ’’قومی انگریزی اردو لغت ‘‘ یادگار کتابیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے کم و بیش تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی جن میں تحقیق، نتقید، ڈرامہ ، افسانہ ،داستان اور تراجم شامل ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا اصل نام محمد جمیل خان تھا۔ جالب دہلوی کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ جالبی لکھتے تھے۔ وہ یوسفزئی پٹھان تھے ان کا خاندان سوات سے ہجرت کر کے ہندوستان آیا۔ انہوں نے اردو ، فارسی اور انگریزی زبانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ انکم ٹیکس کمشنر ریٹائر ہوئے بعدازاں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر رہے ، وہ مقتدرہ قومی زبان کے چیئرمین بھی رہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اُن کی ادبی خدمات کے صلے میں انہیں’’ ستارہ ٔ امتیاز‘‘ اور ’’ہلالِ امتیاز‘‘سے نوازا گیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ ’’کمالِ فن ایوارڈ‘‘ برائے 2017سے بھی اُن کو نوازا گیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم نے لواحقین میں بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑے ہیں ۔ چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان سید جنید اخلاق اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید نے مرحوم کے لیے دُعائے مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی۔

Comments are closed.