کشمیر کی اسلامی تاریخ، ثقافت اور ورثہ بین الاقوامی کانگریس

اسلام آباد(پ۔ر)کشمیر عظیم ثقافتی روایات کا پاسدار ہے۔ مشاہیر نے اسے جنتِ ارضی قرار دے کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن ، اسلام آباد ، اوآئی سی ریسر چ سینٹر فاراسلامک ہسٹری آرٹ اینڈ کلچر(IRCICA)اور حکومت آزاد جموں وکشمیرکے باہمی اشتراک سے منعقدہ دو روزہ کانگرس کے اختتامی اجلاس میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں تاریخی و مذہبی عمارات کی بہترین دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ ان عمارات میں صوفیائے کرام کے مزا ربھی شامل ہیں جنہوں نے اس خطے میں اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر میں تاریخی، عمارتی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جائے اور ان کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دستکار مشکل کا شکار ہیں، وہاں مسلم ثقافت اور فن زوال پذیر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارے مقبوضہ کشمیر میں موجود ثقافتی و تعمیراتی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیر کی دستکاری اور کشیدہ کاری کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ غزالہ سیفی نے کہا کہ کشمیر عظیم تہذیب و ثقافت کا وارث خطہ ہے۔ اس کی دستکاری دنیا میں مشہور ہے۔ ان دستکاروں کی حوصلہ افزائی اور مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دستکار اور فنکار مشکلات کا شکار ہیں اور مارے جا رہے ہیں جس سے فنونِ لطیفہ اور ثقافتی ورثے کو خطرات لاحق ہیں۔ ان فنکاروں کے مسائل کے حل کی طرف عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔ حالت ایرن، ڈائریکٹر جنرل ایریکا نے کہا کہ کشمیر کی ثقافت اور ورثہ کے حوالے سے مظفرآباد آزاد کشمیر میں بھی اسی طرح کی ایک کانفرنس منعقد کرائی جائے گی تاکہ کشمیری ورثے کو اسلامی ممالک میں بطورِ خاص فروغ دیا جائے۔ موجودہ کانگرس اپنے انعقاد میں انتہائی کامیاب اور مفید رہی ہے۔ عالمی سطح کے دانش وروں نے کشمیری ثقافت اور ورثے کو بہترین انداز میں اجاگر کیا۔استقبالیہ کلمات وفاقی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ انجنیئر عامر حسن نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگرس کے انعقاد سے کشمیر میں سیاحت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ کانگرس کی رپورٹ کشمیر کی ثقافت کو او آئی سی ممالک میں بہتر انداز سے پیش کرے گی۔اجلاس کے اختتام پر غزالہ سیفی، انجنیئر عامر حسن اور سید جنید اخلاق نے مندوبین کو سووینیئرز پیش کیے۔ تقریب کی نظامت حنا بتول گردیزی نے کی۔ اختتامی اجلاس سے قبل دو اجلاس منعقد ہوئے۔ پہلا اجلاس کشمیر کے عمارتی اثاثہ جات کے موضوع پر منعقد ہوا ۔ صدارت سلیم بیگ نے کی۔ اجلاس سے ڈاکٹر غنی الرحمان، پروفیسر معیز الدین، ڈاکٹر محمد اجمل شاہ، پروفیسر صغیر خان اور ڈاکٹر ایم اشرف خان نے مقالات پیش کیے۔ دوسرا اجلاس کشمیر کے ادبی ورثے کے عنوان سے منعقد ہوا ۔ صدارت طالپ کچوکان نے کی۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر حلیل طوقار، ڈاکٹر نوشین عباس، فاروق عادل اور پروفیسر خواجہ عبدالرحمان شامل ہیں۔

Comments are closed.