سافٹ اوپننگ کا پہلا اجلاس

اسلام آباد(پ۔ر)کشمیری ثقافت ایک عظیم ورثہ ہے جس کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بڑا مسئلہ ہے جسے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار غزالہ سیفی ، پارلیمانی سیکرٹری، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن نے قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن ، اسلام آباد ، اوآئی سی ریسر چ سینٹر فاراسلامک ہسٹری آرٹ اینڈ کلچر(IRCICA)اور حکومت آزاد جموں وکشمیرکے باہمی اشتراک سے سافٹ اوپننگ کے پہلے اجلاس میں کیا۔تعارفی گفتگو کانگریس کے منتظم سید جنید اخلاق نے کی اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر خرم قادر نے کی۔ IRCICA کے مندوب پروفیسر عزمی اوزکان نے’’ انیسویں صدی کی آخری پانچ دہائیوں میں کشمیر‘‘ کے موضوع پر ، پروفیسر محسن شکیل نے’’ قرونِ وسطیٰ میں غیر مسلم کشمیریوں کے حقوق‘‘ کے موضوع پر ، پروفیسر فیض الرحمان نے ’’مذہبی ہم آہنگی میں صوفیہ اور رشیوں کے کردار ‘‘کے عنوان پر مضمون پیش کیا۔ سابق سفیر عارف کمال نے’’ قرونِ وسطیٰ کے کشمیر میں اشاعتِ اسلام‘‘ کے حوالے سے گفتگو کی۔ غزالہ سیفی نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے جو تمام مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی وجہ سے اسلامی تعمیراتی ورثے کو بہت نقصان پہنچا ہے اور خطرات درپیش ہیں۔ وہاں کا ثقافتی ورثہ زوال پذیر ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں نہ صرف اسلامی تاریخی و ثقافتی ورثے کو تحفظ دیا گیا ہے بلکہ دیگر مذاہب کے مقدس مقامات اور تاریخی عمارتوں کابھی خیال رکھا جا رہا ہے۔ دو روزہ کانگریس کے انعقاد کے نتیجے میں سفارشات کے ذریعے کشمیر کے تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کو مزید تحفظ اور توجہ دی جاسکے گی۔ انھوں نے قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کو اس اہم کانگریس کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ کانگریس کا دوسرا اجلاس ’’کشمیر کے تعمیراتی ورثہ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔ صدارت پروفیسر میمونہ خان نے کی۔ اوآئی سی ریسر چ سینٹر فاراسلامک ہسٹری آرٹ اینڈ کلچر(IRCICA)کے مندوب عامر پاسک نے اپنی تنظیم کے تعلیمی، منصوبہ سازی اور ترقیاتی خدمات پر تعارف پیش کیا۔ پروفیسر نعمان احمد نے ’’مقبوضہ کشمیر میں اسلامی تعمیرات کو لاحق خطرات ‘‘کے حوالے سے ، جموں کشمیر کے مندوب سلیم بیگ نے’’کشمیر کے اسلامی طرزِ تعمیر ‘‘کے عنوان ، ڈاکٹر شاہین اختر نے’’ آزاد کشمیر کے ثقافتی ورثے کی ترقی‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ کانگریس کے تیسرے اجلاس کا انعقاد ’’کشمیر کا ثقافتی ورثہ‘‘ کے موضوع پر کیا گیا۔ صدارت IRCICA کے پروفیسر عزمی اوزکان نے کی۔ پروفیسر میمونہ خان نے’’ کشمیری دستکاری میں فطری جیومیٹریکل اشکال ‘‘کے عنوان، پروفیسر رخسانہ خان نے’’ وادئ نیلم کے ثقافتی ورثے کو لاحق خطرات ‘‘، ڈاکٹر معروف شاہ جو بطورِ خاص سری نگر سے آئے تھے نے ’’کشمیری صوفیانہ ثقافت میں حیواناتی علامات کا
احیا ‘‘کے موضوع پر مقالہ پیش کیا۔

Comments are closed.