کمال فن ایوارڈ2017ء اور قومی ادبی ایوارڈ2017ء کا اعلان

اسلام آباد (پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میںملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ’’کمال فن ایوارڈ‘‘2017ء کے لیے معروف محقق، نقاد، ادیب اور دانشور ڈاکٹر جمیل جالبی کو منتخب کیا گیا ہے ۔یہ اعلان انجنیئر عامر حسن، سیکریٹری قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔ سید جنید اخلاق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان بھی اس موقع پر موجود تھے۔’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے جس کی رقم 1,000,000/-( دس لاکھ روپے) ہے۔2017کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر فہمیدہ حسین، جناب حفیظ خان ،ڈاکٹر تحسین فراقی، پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم، محترمہ پروین ملک، ڈاکٹر توصیف تبسم، ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، ڈاکٹر روف پاریکھ، جناب محمد ایوب بلوچ، ڈاکٹر روبینہ شاہین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت سید مظہر جمیل نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی،احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ،عبداللہ حسین ،افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید اور امر جلیل کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ دیئے جا چکے ہیں ۔پریس کانفرنس میں’ ’قومی ادبی ایوارڈ‘‘ برائے سال2017ء کا اعلان بھی کیاگیا۔ انجنیئر عامر حسن سیکریٹری قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن اور چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ،سید جنید اخلاق نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو شاعری کے لئے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ نصیر ترابی کی کتاب ’’لاریب ‘‘، اردونثر کے لئے ’’سعادت حسن منٹوایوارڈ‘‘ خالدہ حسین کی کتاب ’’جینے کی پابندی‘‘،پنجابی شاعری کے لئے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ رائے محمد خاں ناصر کی کتاب ’’ہونگ‘‘، پنجابی نثر کے لئے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر ناصر بلوچ کی کتاب ’’جھوٹا سچا کوئی نہ‘‘،سندھی شاعری کے لئے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ ادل سومرو کی کتاب’’نيرولي جو خواب‘‘ سندھی نثر کے لئے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ بادل جمالی کی کتاب “اويلو مسافر”، پشتو شاعری کے لئے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ رویل خان رویل کی کتاب ’’”‹š œ’* Ÿž™žŽ*‘‘، پشتو نثر کے لئے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ عبدالکریم بریالے کی کتاب “ƒ¦ Ÿ¢ & œ’*  ‹¤›  “„¦”بلوچی شاعری کے لئے ’’مست توکلی ایوارڈ‘‘ احمد زہیر کی کتاب’’زپتیں زہیر ‘‘، بلوچی نثر کے لئےþþ سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈýý غنی پرواز کی کتاب “ماہ ء روچ ء چیر” سرائیکی شاعری کے لئے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘سعید اختر کی کتاب ’’نوکھ‘‘ ،سرائیکی نثر کے لئے þþڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈýý ارشاد تونسوی کی کتاب’’ عشق اساڈا دین‘‘، براہوئی شاعری کے لئے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘ شہزاد نذیر کی کتاب ’’ہتم ناتوبے‘‘ ،براہوئی نثر کے لئے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ میر براہوئی کی کتاب ’’سکا ماہ گل‘‘ ہندکو شاعری کے لئے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ حسام حر کی کتاب ’’حسنت جمیع خصالہ‘‘،انگریزی نثر کے لئے پطرس بخاری ایوارڈ میاں رضا ربانی کی کتاب ’’Invisible People‘‘اور ترجمے کے لئے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘ ہما انور کی کتاب ’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ کو دیا گیا۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جاتے ہیں۔

Comments are closed.