اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت نثر نگار اور محقق محمد حفیظ خان کے ساتھ شامِ ملاقات

اسلام آباد (پ ر) درباری ادب کے خلاف ہمیشہ جہاد کیا ہے۔دلوں میں بسنے والا ادب لکھنا پسند کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار معروف نثر نگار اور محقق محمد حفیظ خان نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ میں کیا۔صدارت افتخار عارف نے کی۔ممتازادیبوں نے پروگرام میں شرکت کی اورمحمد حفیظ خان سے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو اور سوالات کیے۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔تقریب میں خالد فتح محمد، پروفیسر جلیل عالی، حلیم قریشی، ڈاکٹر احسان اکبر اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔ محمد حفیظ نے کہا کہ ہم نے بھلا دیا کہ شاعری میں ہمیشہ زندہ رہنے کی تمنا سے کونپلین نکالتی ہے۔ یہی وہ انسانی ہنر ہے جس کے سامنے فنا کو بار بار پسپا ہوتے دیکھا گیا ہے ۔ اسی لیے تو تاریخ اور فلسفے سمیت دنیا کے تمام علوم شاعری میں ہی منقلب ہوجانے کی خواہش سے دامن نہیں بچا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پھر سے مست توکلی کی راہ تلاش کرنی ہے ۔ شاہ لطیف، بلھے شاہ ، رحمن بابا ، غلام فریدکے لہجے میں بات کرنی ہے ۔ مری ہوئی ا مید کو زندہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اہل قلم کو ٹوٹے ہوئے دلوں کو پھر سے جینے کی جوت جگانی ہے اور یہ بتانا ہے کہ دہشت مرے ہوئوں کو مارتی ہے، زندہ رہنے کی امید رکھنے والوں کو نہیں ۔ محمد حفیظ خان نے کہا کہ 1975میں ریڈیو بہاولپور کے آغاز ہی سے لکھنا شروع کیا تھا۔ بنیادی طور پر کہانی اور نظم کہتا تھا لیکن ریڈیو کیلئے سرائیکی ڈرامے لکھے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تنقیدی اثاثہ صرف پانچ کتابوں پر مشتمل ہے۔ افتخار عارف نے کہا کہ حفیظ خان شائستہ اور متوازن شخصیت کے مالک ہیں۔بہاولپور اور ملتان کے حوالے سے اُنہوں نے اس خطے کی سماجی معاملات کا احاطہ کیا ہے۔ اُن کے ہاں بات کو دوسروں تک پہنچانے کا ہنر موجود ہے۔ان کی سرائیکی نثر میں لفظ بالکل بھی اجنبی نہیں لگتے۔جلیل عالی نے کہا کہ جتنے بھی خوبصورت لفظ میسر ہوں تو انکی شخصیت کیلئے استعمال کرنے چاہیں، حفیظ خان نے ادب میں بھی ترجیحات کو بڑی اہمیت دی ہے وہ بغیر لگی لپٹی اور سلیقے سے بات کرتے ہیں۔خالد فتح محمد نے کہا کہ حفیظ خان نے اُردو اور سرائیکی کے حوالے سے بڑا اور اہم کام کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ آج اس مقام پر ہیں۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے پروگرام ’’ میٹاے رائٹر اوور اے کپ آف ٹی ‘‘ سلسلے کی سینتیسویں تقریب نثر نگار اور محقق محمد حفیظ خان کے اعزاز میں منعقد ہورہی ہے۔اکادمی آئندہ بھی ادبیوں اوردانشوروں کے ساتھ اس طرح کی ملاقات کا اہتمام کرتی رہے گی۔

Comments are closed.