اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام ’’پاکستانی خواتین کا قومی ادبی سمینار‘‘ اور مشاعرہ

برصغیر میں نسائی شعور کی بیداری کی مثال موجو د نہیں۔ڈاکٹر فاطمہ حسن
اسلام آباد(پ ۔ر)برصغیر میں نسائی شعور کی بیداری کی مثال موجو د نہیں۔ ان خیالات کا اظہارڈاکٹر فاطمہ حسن نے اکادمی ادبیات پاکستان ، قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر’’ پاکستانی خواتین کا قومی ادبی سمینار‘‘ میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔سیمینار میں خواتین پر لکھی گئی تین کتابوں’’خاموشی کی آواز‘‘از ڈاکٹر فاطمہ حسن،’’بلوچ عورت تاریخی تناظر میں‘‘از پناہ بلوچ اور ’’Pakistani Women Writers(1947-2017)‘‘ از ڈاکٹر منزہ یعقوب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ڈاکٹر راشد حمید ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے ابتدائیہ پیش کیا۔ نظامت ڈاکٹر حمیرا اشفاق اور طاہرہ غزل نے کی ۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ تہذیب و تمدن کی تاریخ سے عورت کا وجود غائب ہے۔ اس منفی رویے کو تبدیل کرنا اور ایسے سماجی ایجنڈے پر تنقید کرنا جو غیر مساوی سلوک کو تقویت دے۔ فیمنزم نسائی شعور کی بیدار ی ہے۔ وہ شعور جو عورت کو بحیثیت انسان کے مقام و منصب میں کمتر سمجھنے کو رَ د کرتا ہے۔برصغیر میں نسائی شعور کی بیداری کی مثال موجو د نہیں۔ اردو ادب میں حالی اور ان کی ہم عصر زاہدہ خاتون شروانیہ نے اپنی شاعری میں روایتی سماج کو تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح طور پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ برصغیر کی عورت اس سماج میں مظلوم ہے جس کی وجہ جاہلانہ رسوم و رواج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تاریخ خاموش ہے ، وہاں اس دور کا ادب معاشرے کے رویوں کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہے۔ڈاکٹر منزہ یعقوب نے کہا کہ ہماری خواتین پورے شعور کے ساتھ اسی نامساوی رویے کورد کررہی ہیں۔ پاکستانی خواتین اہل قلم کے حوالے سے انگریزی اور اردومیں لکھنے والی خواتین اہل قلم 1947-2017 کی تحریریں شامل ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ اس میں دونوں زبانوں میں لکھنے والی خواتین کے حوالے سے تمام معلومات یکجا کردی گئیں ہیں تاکہ انگریزی ادب سے تعلق رکھنے والے اس سے استفادہ کر سکیں۔ پاکستانی خواتین اہل قلم نے اپنی تحریروں میں پاکستانی ثقافت، معاشرہ اور دیگر تمام موضوعات کو سمویا ہے۔ پنا ہ بلوچ نے کہا کہ سولہویں صدی سے بیسویں صدی کے دوران بلوچ عورت کی ادبی خدمات، حقوق نسواں کی جانب پیش قدمی کرتی، روایتی بندھنوں سے بغاوت کا علم بلند کرتی، پیکر حریت بنی، بہادری اور جانبازی دکھاتی، مثبت روایتوں کی دفاع کرتی، امور حکمرانی کی ذمہ داریاں سنبھالتی، سفارت کاری کے فرائض سرانجام دیتی اور امور سلطنت میں معاونت کی خواتین کو موضوع سخن بنا کر ان کی خدمات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل ،ا کادمی نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان ہر سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا اہتما م کرتی ہے جس میں پاکستان کی اہل قلم خواتین کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مباحث ہوتے ہیں۔ اس سال خواتین کے حوالے سے لکھی گئی تین کتابوں کی تعارفی تقریب کو موضوع بنایا گیا ہے جس میں لکھاریوں نے اس پر گفتگو کی ہے۔ خواتین پر لکھی گئی تینوں کتابیں اس صنف میں اہم اضافہ ہیں۔ بعدازاں شاعرات نے مشاعرے میں پاکستانی زبانوں میں کلام سنایا۔

Comments are closed.