اکادمی ادبیات پاکستان کی کتاب شیخ ایاز:شخصیت اورفن شائع ہو گئی

پاکستانی ادب اور خاص طور پر سندھی ادب پر شیخ ایاز کے فن اور فکر کے انمٹ نقوش اور گہرے اثرات ہیں۔سید جنید اخلاق

اسلام آباد (پ۔ر) پاکستانی ادب اور خاص طور پر سندھی ادب پر شیخ ایاز کے فن اور فکر کے انمٹ نقوش اور گہرے اثرات ہیں۔ شیخ ایاز کے کلام میں فکر و عمل کے نئے در کھلتے ہیں۔ یہ بات اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین سید جنید اخلاق نے پاکستانی ادب کے معمار کے سلسلے کی نئی کتاب’’شیخ ایاز :شخصیت اورفن‘‘ کی اشاعت کے موقع پر کہی۔انہوں نے کہا کہ شیخ ایاز ہماری ادبی تاریخ کا بہت اہم اور انتہائی لائقِ توجہ باب ہیں۔زندگی اور ادبی حوالے سے یہ کتاب شیخ ایاز پربنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔شیخ ایازکو سندھی، اردو ،فارسی اورانگریزی زبانوں پر یکساں عبور حاصل تھا۔شیخ ایاز نے اپنی شاعری میں معاشرے کی انسانی قدروں کی ترجمانی کی ہے۔انہوں نے بھر پور سیاسی اور ثقافتی زندگی گزاری۔ان کی شاعری اور دیگر تحریریں ان کی زندگی کی دیانت دارانہ عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی شاعری قدیم و جدید اسالیب کا خوبصورت امتزاج ہے۔انھیں عوامی سطح پر بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی ادب کے معمار، اکادمی ادبیات پاکستان کا اہم اشاعتی سلسلہ ہے۔ اس سلسلے کے تحت ان اہم شاعروں اور ادیبوں کی شخصیت اور فن پر کتابیں شائع کی جاتی ہیں، جنھوں نے ساری زندگی پاکستانی ادب کے فروغ میں بسر کی اور ادب پر دائمی اثرات مرتب کیے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کا یہ منصوبہ نہ صرف تعارفی ہے بلکہ تحقیقی و تنقیدی بھی ہے جس سے طالب علم اور قارئین استفادہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے اشاعتی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار کے تحت کتاب ، شیخ ایاز:شخصیت اور فن، ملک کے معروف محقق ڈاکٹرانورفگارھَکڑو نے تحریر کی ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۲۰۰۶ء میں شائع ہوا تھا۔ شائقینِ ادب اور محققین کی طرف سے دوسرے ایڈیشن کی بہت ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ کتاب کے ترامیم و اضافہ شدہ دوسرا ایڈیشن شائع کیا ہے ۔کتاب کی تدوین کا کام فیاض لطیف چانڈیونے کیا ہے۔ یہ کتاب 186صفحات پر مشتمل ہے، اس کی قیمت 240روپے ہے۔ شیخ ایاز کی شخصیت اور فن کے حوالے سے یہ کتاب اہم حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ کتاب مارکیٹ ، اکادمی کی بُک شاپ اور اکادمی کے ریجنل دفاتر میں دستیاب ہے۔

 

Comments are closed.