تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘کے تحت معروف افسانہ نگار فریدہ حفیظ کے ساتھ ملاقات

اسلام آباد (پ ر)سب سے زیادہ بچوں کے ادب کو اہمیت دینی چاہیے اور اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالا ت کا اظہارمعروف افسانہ نگار فریدہ حفیظ نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ’’اہل قلم سے ملیے‘‘ میں کیا۔صدارت محمد حمید شاہد نے کی۔ممتازادیبوں نے پروگرام میں شرکت کی اورفریدہ حفیظ سے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو اور سوالات کیے۔ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔فریدہ حفیظ نے کہا کہ میرا زیادہ تربچپن پشاور میں گزرا۔ ہمارے گھر کا ماحول ادب سے زیادہ تعلیمی تھا۔ میرے والد مجھے نصاب کی طرف زیادہ مائل کرنا چاہتے تھے ۔ لیل و نہار ، شمع اور دیگر رسالے ہمارے گھر آتے تھے جن کا مطالعہ کرتی تھی۔یونیورسٹی میں جانے کے بعد میرا پہلا افسانہ لیل و نہار میں چھپا وہاں پر انتظار حسین ، حسن عابدی، فرہاد زیدی، اور انجم رومانی جیسی ادبی شخصیات سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔اس کے بعد مشرق اخبار میں باقاعدہ ملازمت اختیار کی اور مشرق اخبار کا ادبی صفحہ کرنے لگی،وہاں پر انتظار حسین بھی لکھتے تھے اور اُنہوں نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی۔اُنہوں نے کہا کہ1968ء میں میری حفیظ صاحب کیساتھ شادی ہوئی اور کچھ عرصہ کے بعد امریکی ریاست شکاگو جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے نیشنل بُک فاونڈیشن اور اکادمی ادبیا ت پاکستان کے لیے بھی کام کیا ۔محمدحمید شاہد نے کہا کہ میں نے فریدہ حفیظ کوہمیشہ مختلف ادبی تنظیموں میں متحرک پایا۔ صحافت میں بہت کچھ لٹانے کے باوجود بھی ادب کے لیے اُن کے پاس بہت کچھ موجود ہے۔ وہ دھیمے لہجے کی خوبصورت افسانہ نگار ہیں۔ افتخار عارف نے کہا کہ فریدہ حفیظ کو ادبی شخصیات کے حوالے سے اپنی یاداشتوں کورقم کرناچاہیے، اس سے ایک تاریخ بنے گی۔ ڈاکٹر راشد حمید، ڈائریکٹر جنرل اکادمی نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے پروگرام ’’ میٹ اے رائٹر اوور اے کپ آف ٹی ‘‘ سلسلیکی چھتیسویں تقریب آج ملک کی معروف افسانہ نگار فریدہ حفیظ کے اعزاز میں منعقد ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فرید ہ حفیظ ہمہ جہت لکھاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی آئندہ بھی ادبیوں اوردانشوروں کے ساتھ اس طر ح کی ملاقات کا اہتمام کرتی رہے گی۔

Comments are closed.