ہر ایک شخص وبائیں اُٹھائے پھرتا ہے

(ڈاکٹر فرحت عباس)

ہر ایک شخص وبائیں اُٹھائے پھرتا ہے
طرح طرح کی بلائیں اُٹھائے پھرتا ہے
یہ کیسا خوف ہے دنیا پہ آج چھایا ہوا
کفن فروش قبائیں اُٹھائے پھرتا ہے
خدائے پاک کا ہم پر کرم ہے ہر لمحہ
ہمیں جو بائیں سے دائیں اُٹھائے پھرتا ہے
فقیرِ راہ دعائوں کی شکل میں اب بھی
طرح طرح کی دوائیں اُٹھائے پھرتا ہے
غریبِ شہر پہ رحمت خدا ہی فرمائے
دعا کو اپنی ردائیں اُٹھائے پھرتا ہے
ہوائے دشتِ قضا سر بسر ہے عالم میں
ہجوم پھر بھی قبائیں اُٹھائے پھرتا ہے
حصار ِ موج میں اُلجھا، نفس کا مارا ہوا
یقیناََ اپنی خطائیں اٹھائے پھرتا ہے
ہماری سوچ بھی اک لاش ہے کہ وقت جسے
جدھر جدھر کو بھی جائیں، اٹھائے پھرتا ہے
فریفتہ ہے ہر اک پر اگر ملے موقع
یہ وائرس تو ادائیں اٹھائے پھرتا ہے
بس ایک درد کا مارا، زمین زادہ بھی
زمیں کی ساری بلائیں اُٹھائے پھرتا ہے
وہ ایک زہر ہے تریاق جس کو کہتے ہیں
شِفا نہیں وہ شَفائیں اُٹھائے پھرتا ہے
اسے خبر ہے کہ مقتل میں مارا جائے گا
مگر وہ پھر بھی صدائیں اُٹھائے پھرتا ہے
اب اعتبار جہاں کب کسی کا ہو فرحت
وفا شعار جفائیں اُٹھائے پھرتا ہے

حالات حاضرہ

(وقاص)

موت ھے اور موت کے خدشات ہیں
سنسنی ھے ان دِکھے خدشات ہیں

خوف پھیلا ھے وبا کے روپ میں
قریہ قریہ پل رہے خدشات ہیں

گر کوئی تریاق ھے وہ ھےیقیں
زہر کی صورت لیے خد شات ہیں

اس صدی کے آدمی , تو, ھے خدا؟
تو نے ہی پیدا کیے خد شات ہیں؟

دائرہ در دائرہ تشکیک ھے
بے طرح پھیلے ہوئے خدشات ہیں

تجھ میں ہمت ھے تو ان کو مات دے
اے نئے انساں نئے خدشات ہیں
— —

وہ گلی کے موڑ پر ھے منتظر
ڈررہا ہوں میں مرے خدشات ہیں

قرنطینہ

(راحل بخاری)

کوئی سسکی سنائی دی رہی ہے
بنفشی دھند سے کس نے پکارا
جہاں میں ہوں وہاں تو صرف میں ہوں
مگر جنگل بھی تو ہے

سنو جنگل کی سسکی سن رہے ہو
سنو یہ بین، یہ دلدوز لہجہ
سنو یہ چیخ جو چپ کا لبادہ اوڑھتی ہے
سنو یہ کرب میں گندھی ہوئی بے ربط سانسیں
مگر سننے کو کوئی دوسرا بھی چاہیے ہے
جہاں میں ہوں وہاں تو صرف میں ہوں
مگر تنہا نہیں ہوں

ہوا ہے،
ہوا جو سانس بن کر چل رہی ہے
ہوا آواز بن کر گھل رہی ہے
ہوا بھوری ہوا جو اب نظر آنے لگی ہے

شجر ہے
شجر دھرتی کا بیٹا
شجر جو روشنی ہے
شجر طوطے کا گھر ہے
شجر چڑیا کی امید
شجر حمد خدا ہے
شجر کاٹا گیا ہے

گلہری اور شجر کی دوستی ہے
گلہری رو رہی ہے

اپنے رب کو پکار کر روئے

(ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش)

اپنے رب کو پکار کر روئے
صاحبِ دل شب و سحر روئے

منہ جو سب نے خدا سے پھیر لیا
کیوں نہ انسان دربدر روئے

کم نصیبی سی کم نصیبی ہے
لوٹ آئے دعا ، اثر روئے

خوف ایسا کہ خوف خوفزدہ
اس قدر ڈر کہ آپ ڈر روئے

خشک آنکھوں سے بحر و بر ٹپکے
دل بھی سنگلاخ تھے ، مگر روئے

اس کی ناراضگی ہے اب کے شدید
ورنہ کتنے ہی دیدہ ور روئے

بے خبر غفلتوں میں غرق رہے
اس کی رحمت سے باخبر ، روئے

اشک آنکھوں سے کب یہ بہتے تھے
عفو و بخشش کا سوچ کر روئے

رحم کر ! رحم کر ! سبھی ذی قدر
گر کے سجدوں میں رات بھر روئے

کب سزاوارِ رحم تھے ہم لوگ
رونے والے پر اس قدر روئے

داستاں دلخراش ہے اتنی
سننے والے اِدھر اُدھر روئے

اس قیامت کو ٹالنے کے لیے
اب کے لازم ہے ، ہر بشر روئے

اس کے آگے ہے اب مری فریاد
جس کے آگے ابو البشر روئے

لوگ کہتے ہیں وبا ہے یہ وبا کا وقت ہے

(اقتدار جاوید)
غزل

لوگ کہتے ہیں وبا ہے یہ وبا کا وقت ہے
یہ گھڑی مشکل کی ہے مشکل کشا کا وقت ہے!!

شہر کو کھا جانے والی ہے یہ میناروں کی چپ
کوٸی نوبت ہے نمازوں کی قضا کا وقت ہے

صبحِ کاذب کی سحر انگیزیاں داٸم وہیں
کوٸی دریا ہے اندھیرا ہے خدا کا وقت ہے

دن نکلتا ہے ابھی تک اک حیات آثار دن
آسمانوں پر ستارے ہیں ثناء کا وقت ہے

اک ذرا توضیح جس کی ہو نہیں سکنی ابھی
مری مٹھی میں ابھی کوٸی بلا کا وقت ہے

پاٶں رکھتے ہیں اٹھاتے ہیں پلٹ آتے ہیں ہم
رہگذر پر ایک انجانی صدا کا وقت ہے

پھیلتی جاتی ہے اک بے ہیتی چاروں طرف
یہ دعا کا وقت ہے یہ بددعا کا وقت ہے

درمیاں میں دوسری ساعت کا امکاں تک نہیں
ابتدا کا وقت ہے اور انتہا کا وقت ہے

اہلِ دنیا پر بھروسے کا کوٸی یارا نہیں
یہ عراقِ زندگانی ہے رثا کا وقت ہے!!

ہر شخص ہے سہما ہوا آفات کے ڈر سے

(وسیم عباس)

ہر شخص ہے سہما ہوا آفات کے ڈر سے
جاں جیسے نکلتی ہے ، نکلتے ہوئے گھر سے

ہر سمت نظر آتے ہیں ویرانی کے منظر
مفلوج ہوئی زیست کرونا کے اثر سے

مسجد ہو کہ مندر ، وہ کلیسا ہو کہ معبد
آئے نہ صدا کوئی اِدھر سے نہ اُدھر سے

اب صبحِ طلب کی نہ شبِ وصل کی خواہش
بیگانہ ہوئی خلقِ خدا شام و سحر سے

اب کوئی عزیزوں سے گلے مل نہیں سکتا
لوٹے ہوں وہ چاہے کسی صحرا کے سفر سے

لے سکتا نہیں اُس کا بھی اب پیار سے بوسہ
ملتا تھا سکوں درد میں جس نُورِ نظر سے

اب ہم سے جنازوں میں بھی شرکت نہیں ہوتی
اب راہ نہیں ملتی کسی راہ گزر سے

اُمید فردا

(سعیدہ بانو بلوچ)
جیون دی آس
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساں محتاط رہ کے اینکوں دنیا توں مٹا گھِنسوں
اے خطرے دی علامت ہے جیندا جو ناں کرونا ہے
جیہڑھا ہتھیں کنوں لگدے تے سنگھ ایندا بچھونا ہے
ایں وائرس نوعِ انساں کوں بنا گھِدا کھلونا ہے
جے گھر وچوں ہی نہ نکلوں تاں ساڈے لو اے سونا ہے
سماجی دوری رکھ کے وی اساں سب دی دعا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
کرونا توں بچن سانگے گھریں اِچ لاک تھی ونجو
اقارب تے عزیزیں توں منڈھوں ہی عاق تھی ونجو
اینجھا بند کر گھنو خود کوں جو بالکل کاک تھی ونجو
ہٹھے ویلے ہتھیں کوں دھو کے وائرس پاک تھی ونجو
خدا دی جے مدد ہوسی اوکھی گھڑی لنگھا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
کرونا توں جے بچنا ہے تاں آئسولیٹ کر گھِنو
بہوں مُد لو نِسے آہدے تھوڑا تاں ویٹ کر گھِنو
کمیں کاریں دی پرواہ نئیں انھیں کوں لیٹ کر گھِنو
نہ نکلو ، نہ ہی آون ڈیو، بند اپنا گیٹ کر گھِنو
کرونا توں بچن سانگے بس اپنا دَر ولا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں

تساں خود کوں گھریں اپنیں دے وچ محصور رکھ گھِنو
کرو کوشش جو ہک بئے توں ہتھیں کوں دور رکھ گھِنو
حفاظت اِچ میڈے پیارے اکھیں دا نور رکھ گھِنو
ایں دنیا اِچ ملی جو ہے ایہا ہی حو ر رکھ گھِنو
رُسیمیں دور کرکے ہی محبت دااَلا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساڈے ڈاکٹر ، نرساں اتے سارا طبی عملہ
معالج ہن ڈینہاں راتیں جیڑھا کیتے وبا حملہ
پولیس ای ہے روکیندی پئی جیڑھا پھِردا ودے کملا
وبا روکن دی کاوش اِچ حکومت دا اُچا شملہ
امید ہے قوم ہک تھیسی تے ساریں کوں رَلا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اے غافل! ہُن خدا کولوں ایہا فریاد کر گھن توں
جیویں تھیوی جتھاں تھیوی خدا کوں یاد کر گھِن توں
خدا دے ذکر توں بانؔو اے دل آباد کر گھِن توں
تے من کوں مار کے ڈوجھیں دے من کوں شاد کر گھِن توں
توبہ زاری تے سجدے کرکےرب اپنا منا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساں محتاط رہ کے اینکوں دنیا توں مِٹا گھِنسوں

—————–

اُمید فردا
(اردو ترجمہ)

o کرونا کی وبا سے پاک وطن کو بچا لیں گے ، احتیاط کے سبب ہم پوری دنیا سے اسے ختم کر دیں گے۔
o کرونا وائرس خطرے کی علامت ہے جو ہاتھوں سے ایک دوسرے تک پھیلتا ہے اور گلے تک جا پہنچتا ہے جس کی وجہ سے نوع انسان انجانی پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اس پریشانی کے سبب گھر میں رہنا ہے سماجی دوری سے ہی ہم ایک دوسرے کو بچا لیں گے ۔
o کرونا سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو مکمل لاک کر دیں گے رشتہ داروں اور عزیزوں سے نہ ملیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں تاکہ ہاتھوں پر لگا وائرس اتر جائے۔اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس مشکل گھڑی سے نکل آئیں گے۔
o کرونا سے بچنے کے لیے میں پھر کہوں گی کہ آپنے آپ کو بند کر لیں۔ کچھ عرصے کے لیے خود کو بند رکھیں تاکہ وائرس نہ پھیلے ۔ شعبہ زندگی میں کام کاج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں موخر کر دیں۔ آنے جانے کے لیے گھروں کے دروازے بند کر دیں۔
o ایک دوسرے سے ملنے کے لیے خود کو گھروں میں محصور کر لیں ۔ ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔ ہاتھوں کو چہرے تک نہ لے جائیں اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں ۔ آخرکار ساری رنجشیں دور ہی ہو جائیں گی۔
o سارے ڈاکٹر ، نرسیں اور پورا طبی عملہ اس بیماری کے خلاف شب و زور سرگرم عمل ہیں ان کے ساتھ ساتھ پولیس کے جوان بھی اس وائرس کے خاتمے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں ۔ حکومت ہی کی کوشش سے یہ سب ممکن ہے میں امید کرتی ہوں کہ پوری قوم یک جان ہو کر اس کا خاتمہ کرے گی۔
o اے غافل! اب صرف اللہ تعالیٰ سے ہی فریاد کی جائے ۔ تمام انسان ذکر الٰہی میں وقت گزاریں یعنی خدا کے ذکر سے ہی دلوں کو آباد کریں اور جہاد بالنفس سے ہی دوسروں کو شاد کر سکتے ہیں ۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے تاکہ موذی وائرس سے بچا جا سکے۔

مزے کے دن ہیں

(عمران عامی)

گھروں میں بیٹھے ہیں
اور دفتر میں حاضری بھی لگی ہوئی ہے
کسی کا پرچہ بھی کَٹ چُکا ہے
کسی کی عرضی پڑی ہوئی ہے
فقیر شاہوں کے ساتھ گَپیں لگا رہے ہیں
جو ہونے والا نہيں ہے اُن کو بتا رہے ہیں
بتا رہے ہیں کہ بادشاہت ” جمہوری مُلکوں ” میں بے اثر ہے’ مُضِر نہيں ہے

سب اُس پہ بَغلیں بجا رہے ہیں

مزے کے دن ہیں

ہر ایک مسجد کے گیٹ پر یہ لکھا ہوا ہے
یہاں حکومت خُدا سے ملنے پہ معترض ہے
سو گھر پہ رہیے
خُدا کو کمروں میں یاد کیجے
نمازیں پڑھیے ‘ اذانیں دیجے

ثواب لیجے

مزے کے دن ہیں

یہاں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رَش لگا ہے
قیامت آنے میں چار دن ہیں تَنور والا بتا رہا ہے
بتا رہا ہے کہ روغنی نان کھانے والا بھی سُوکھی روٹی پہ آ رہا ہے

اور اُس پہ ہنس کر دِکھا رہا ہے

مزے کے دن ہیں

وہ چھت پہ بیٹھی ہے اور میں ٹیرس سے دیکھتا ہوں
وہ ہر منٹ بعد اپنے ہاتھوں کو دیکھتی اور سُونگھتی ہے
اُسے کہیں سے پتا چلا ہے کہ سُونگھنے اور چَکھنے والی حِسیں اگر کام کر رہی ہوں
تو سمجھیں کوئی مرض نہيں ہے
وہ اپنے بچوں کو ہاتھ دھونا سِکھا رہی ہے
جو خوش نہيں ہیں

وہ اُن کو رونا سِکھا رہی ہے

مزے کے دن ہیں

ابھی ابھی اِک حسِین لڑکی جو شاپروں سے ڈھکی ہوئی تھی
گزر گئی ہے
محلے والے بتا رہے ہیں اُسے *کرونا* نہيں تھا لیکن
وہ مر گئی ہے

اور اُس پہ کوئی خبر نہيں ہے

مزے کے دن ہیں

مگر دنوں میں مزا نہيں ہے

……………
نوٹ : (مقامی تلفظ ” جموری ” دانستہ برتا گیا ہے)

گُل جیسے گُل دان کا رستہ چھوڑ گئے

(فخرلالہ)

گُل جیسے گُل دان کا رستہ چھوڑ گئے
جب سے تم مُلتان کا رستہ چھوڑ گئے

دیواروں کی قید میں ہیں دیواروں سے
کمروں سے دالان کا رستہ چھوڑ گئے

بستی کے سب لوگ خُدا کی کھوج میں تھے
جانے کیوں انسان کا رستہ چھوڑ گئے

رفتہ رفتہ سب یاروں سے دور ہوئے
جیسے جسم اور جان کا رستہ چھوڑ گئے

سورج، چاند، ستارے اب بھی روشن ہیں
تم ہی روشن دان کا رستہ چھوڑ گئے

وہ بھی اپنا آپ بچا کر چلتے ہیں
ہم بھی اب طوفان کا رستہ چھوڑ گئے

ایک وبا کا خوف تھا دوجی تنہائی
ہونٹ یہاں مسکان کا رستہ چھوڑ گئے

وقت کی دہلیز پر

(شبانہ یوسف)

زندگی کی ضمانت بنے
خامشی، چارسو پھیلتی بے کراں
بستی بستی نگر در نگر
بکھری ویرانی کے سنگ رقصاں
ہر آنگن میں اُتری ہوئی زرد رُو بدلیاں
بے یقینی کی بےکل فضاؤں میں سہمی ہوئیں، زندگی کی حسیں تتلیاں
دیکھتے دیکھتے
اَن گنت رنگ یک رنگی میں ڈھل گئے
خیمہءِجاں میں اُلجھنے لگیں سانس کی ٹوٹتی ڈوریاں
اور عجب رسمِ چارہ گری کی چلی
اک وبا ہے، کوئی اجنبی سی بلا ہے، جسے دیکھ کر
اپنے بھی، رستے اپنے بدلنے لگے
وقت کی مرگ انگیز دہلیز پر
سارے منظر رفاقت کے جلنے لگے
ہاں فقط، خواب آسا یہ آنکھیں مری
وقت کے ہجر آمیز آئینے پر
لکھ رہی ہیں نڈر
زندگی سے بھری
سبز رُت کے حسیں چہرے کی داستاں
ہے یقیں ہم ملیں گے اسی وقت کے دائرے میں
پھر اک بار ہستے ہوئے
ٹوٹ جائیں گی خاموشیاں ۔