

اکادمی ادبیات پاکستان ، پاکستانی زبانوں کے ادب کی ترویج و اشاعت اور پاکستانی اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والا ایک قومی ادارہ ہے۔ یہ حکومت پاکستان کا ایک خود مختار ادارہ ہے جو جولائی 1976 میں وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت قائم کیا گیا۔ فی الوقت یہ ادارہ قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومتِ پاکستان کے تحت بطور خود مختار ادارہ کام کر رہا ہے۔
اکادمی کا مرکزی دفتر پطرس بخاری روڈ، ایچ ایٹ ون، اسلام آباد میں واقع ہے۔ اکادمی نے اہلِ قلم سے رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملتان میں بھی علاقائی دفاتر قائم کر رکھے ہیں جو ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاونت کرتے ہیں۔ ان دفاتر کے زیرِ اہتمام باقاعدگی سے ادبی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان کا قیام وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت ایک خود مختار ادارے کی حیثیت سے یکم جولائی 1976 کو عمل میں آیا۔ 1978 میں اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے اغراض و مقاصد طے کیے گئے۔ اساسی اراکین کی حیثیت سے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، جناب اے کے بروہی، جناب حفیظ جالندھری، میاں سید رسول رسا، پروفیسر احمد علی، جناب احمد ندیم قاسمی، جناب شریف کنجاہی اور ڈاکٹر نبی بخش خاں بلوچ کو نامزد کیا گیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، مجلس رفقائے اساسی کے پہلے صدر تھے۔ رہنمائی کے لیے ایک بورڈ آف گورنرز قائم کیا گیا۔
بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ کے ایک فیصلے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں اکادمی کو ایک ماتحت ادارے کی حیثیت دے دی گئی تاہم ادارے کے بنیادی مقاصد پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کے پیش نظر، اس وقت کی انتظامی وزارت نے ضروری جانا کہ اکادمی کی خود مختار حیثیت بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ہدایات کی روشنی میں ایک ایکٹ تیار کیا گیا جسے مارچ 2013 میں پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ایکٹ 2013 کے عنوان سے نافذ کیا گیا۔ یوں اکادمی کو ایک مرتبہ پھر خود مختار ادارے کی حیثیت دے دی گئی۔
اکادمی ایکٹ کے سیکشن 12 کی رو سے اکادمی ادبیات پاکستان کی ذمے داریاں اور اغراض و مقاصد درج ذیل ہیں:
اکادمی ادبیات پاکستان کا مرکزی دفتر پطرس بخاری روڈ، ایچ ایٹ ون، اسلام آباد میں واقع ہے۔ اکادمی نے اہلِ قلم سے رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملتان میں بھی علاقائی دفاتر قائم کر رکھے ہیں جو ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں معاونت کرتے ہیں۔ ان دفاتر کے زیرِ اہتمام باقاعدگی سے ادبی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ پشاور اور کوئٹہ میں دفتری عمارات اکادمی کی ملکیت ہیں۔ کراچی، لاہور اور ملتان میں اپنی عمارتوں کے لیے زمین کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔
اکادمی ادبیات پاکستان کا دیگر ممالک کے ادبی اداروں سے بھی مسلسل رابطہ ہے۔ جن میں رائٹرز ایسوسی ایشن آف چائنا، دی نیشنل ایڈمنسٹریشن آف پریس اینڈ پبلی کیشن آف دی پیپلز ریپبلک آف چائنا، یونین آف بلغارین رائٹرز ایسوسی ایشن بلغاریہ، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز بیلاروس، نیپال اکیڈمی، اومان ایسوسی ایشن آف رائٹرز اینڈ لٹریچر اور استنبول یونیورسٹی آف ایسٹرن لینگوئیجز اینڈ لٹریچر ترکیہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پاکستان، چائنا ساؤتھ ایشیا لٹریچر فورم کا بھی رکن ہے اور اکادمی ادبیات پاکستان اس کی نمائندگی کرتی ہے۔
پاکستان اور چین کے عوام کو ایک دوسرے کے ادب سے روشناس کرانے کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان اور رائٹرز ایسوسی ایشن آف چائنا کے درمیان ایک طویل المدتی اشاعتی منصوبہ طے پایا ہے جس کے تحت اکادمی ایک سو چینی کتابیں اردو میں جبکہ چین سو پاکستانی کتابیں چینی زبان میں شائع کرے گا۔